حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 701 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 701

701 اسراف اور فضول خرچی 893- عَنْ وَرَادٍ، كَاتِبِ المَغِيرَةِ، قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى المَغِيرَةِ: اكْتُبْ إِلَى مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِ مِنْكَ الجَدُّ وَكَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّهُ كَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةِ ،المالِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقُوقِ الأَنْهَاتِ، وَوَأَدِ البَنَاتِ، وَمَنع وَمَاتِ (بخاری کتاب الاعتصام بالكتاب باب ما يكره من كثرة السؤال و تكلف ما لا يعنيه 7292) وراد جو حضرت مغیر ٹا کے کاتب تھے، نے بیان کیا کہ امیر معاویہؓ نے حضرت مغیرہ کو لکھا کہ جو باتیں آپ نے رسول اللہ صلی العلیم سے سنی ہیں وہ میری طرف لکھ بھیجیں تو مغیرہ نے ان کو یہ لکھا کہ نبی اللہ صلی ال کی ہر نماز کے یہ کہا کرتے تھے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ، وَلَهُ الحَمدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الجَدِ مِنْكَ الجَدُّ (اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اس کی بادشاہت ہے اور اس کے لیے حمد ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اے اللہ کوئی روکنے والا نہیں جو تو دے اور کوئی دینے والا نہیں جس کو تو روک لے اور کسی شان والے کو تیرے مقابلہ میں (اس کی) شان نفع نہیں دیتی) اور نیز ان کو یہ لکھا کہ آپ چہ میگوئیوں سے اور بہت سوالات کرنے اور مال ضائع کرنے سے منع فرمایا کرتے اور ماؤں کی نافرمانی سے اور بیٹیوں کو زندہ گاڑنے سے اور خود نہ دینا اور لوگوں سے کہنا کہ لاؤ، اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔