حدیقۃ الصالحین — Page 656
656 حضرت ابو قتادہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن بے چینیوں اور پریشانیوں سے نجات دے تو اسے چاہئے کہ وہ تنگ دست مقروض کو وصولی میں سہولت دے یا قرض میں سے کچھ حصہ معاف کر دے۔840ـ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظُ فَهَم بِهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ، فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِ مَقَالًا، ثُمَّ قَالَ أَعْطُوهُ سِنًا مِثْلَ سِيْهِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا أَمْثَلَ مِنْ سِيْهِ، فَقَالَ أَعْطُوهُ، فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً (بخاری كتاب الوكالة باب الوكالة في قضاء الديون (2306) رض حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے قرض کا تقاضا کرنے لگا۔لب ولہجہ سخت تھا۔آپ کے صحابہ اُسے مارنے کے لئے لیکے۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق والا ایسی باتیں کہتا ہی ہے۔پھر آپ نے فرمایا اس کو ویسی عمر کا اونٹ دے دو جیسا کہ اس کا تھا۔صحابہ نے کہا یا رسول اللہ ! اس سے بہتر ہی ملتا ہے۔آپ نے فرمایا وہی دے دو۔کیونکہ تم میں عمدگی سے قرض ادا کرنے والے ہی بہترین لوگ ہیں۔841- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ خَيْرَكُمْ - أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ - أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً ابن ماجه کتاب الصدقات باب حسن القضاء (2423) حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا تم میں سے بہترین وہ ہیں یا تمہارے بہترین لوگوں میں سے وہ ہیں جو ادائیگی میں بہترین ہیں۔