حدیقۃ الصالحین — Page 655
655 حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الیکم نے فرمایا کہ جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور عزت دیتا ہے اور صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی اور جو کسی کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ اسے عزت میں بڑھا دیتا ہے۔قرض، حسن تقاضا اور حسن ادا 839- عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ، طَلَبَ غَرِيمًا لَهُ، فَتَوَارَى عَنْهُ ثُمَّ وَجَدَه۔۔۔۔قالَ فَإِني سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ مَنْ سَرَّهُ أَن يُنجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَلْيُنَفِّسْ عَنْ مُعْسِرٍ، أَوْ يَضَعْ عَنْهُ (مسلم کتاب المساقات باب فضل انظار المعسر 2909) عبد اللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو قتادہ نے اپنے ایک مقروض کو بلوایا تو وہ ان سے چھپ گیا۔پھر وہ اس سے ملے۔( حضرت ابو قتادہ) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی نیلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔جسے یہ بات خوش کرے کہ اللہ اسے قیامت کے دن کی مصیبتوں سے نجات دے تو چاہئے کہ وہ تنگدست کو مہلت دے یا (مطالبہ ہی) چھوڑ دے۔عَنْ أَبي قتادَةً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَن يُنْجِيَهُ اللهُ مِنْ كُرب يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيُنفِسَ عَنْ مُغيرٍ أَوْ يَضَعْ عَنْهُ (مشكاة المصابيح ، كتاب البيوع باب الافلاس و الانظار ، الفصل الاول 2902)