حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 657 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 657

657 842- عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ يَهُودِيُّ، وَكَانَ يُسْلِفُنِي في تمرِى إِلى الجدادِ، وَكَانَتْ لِجَابِرِ الأَرْضُ الَّتِي بِطَرِيقِ رُومَةً، فَجَلَسَتْ، فَخَلَا عَامًا فَجَاءَنِي اليَهُودِيُّ عِنْدَ الجَدَادِ وَلَمْ أَجُدَّ مِنْهَا شَيْئًا، فَجَعَلْتُ أَسْتَنْظِرُهُ إِلَى قَابِلٍ فَيَأْبَ، فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: امْشُوا نَسْتَنْظِرْ لِجَابِرٍ مِنَ اليَهُودِي فَجَاءُونِي فِي نَخْلِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِمُ اليَهُودِيَّ، فَيَقُولُ أَبَا القَاسِمِ لَا أُنْظِرُهُ، فَلَمَّا رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَطَافَ فِي النَّخْلِ، ثُمَّ جَاءَهُ فَكَلَّمَهُ فَأَبَ، فَقُمْتُ فَجِئْتُ بِقَلِيلِ رُطَبٍ، فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ أَيْنَ عَرِيشُكَ يَا جَابِرُ ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ افْرِشُ لِي فِيهِ فَفَرَشْتُهُ، فَدَخَلَ فَرَقَدَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَجِئْتُهُ بِقَبْضَةٍ أُخْرَى فَأَكَلَ مِنْهَا، ثُمَّ قَامَ فَكَلَّمَ اليَهُودِى فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَامَ فِي الرَّطَابِ فِي النَّخْلِ القَانِيَةَ، ثُمَّ قَالَ يَا جَابِرُ جُدَّ وَاقْضِ فَوَقَفَ فِي الجَدَادِ ، فَجَدَدْتُ مِنْهَا مَا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ مِنْهُ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَشِّرْتُهُ، فَقَالَ أَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ (بخاری کتاب الاطعمة باب الرطب و التمر 5443) الله حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک یہودی تھا اور وہ مجھے میری کھجوریں کٹنے تک قرض دیا کر تا تھا اور جابر کی وہ زمین تھی جو بئر رومہ کے راستے پر تھی۔ایک سال اس زمین نے پھل نہ دیا اور سال خالی گزرا وہ یہودی پھل کٹنے کے وقت میرے پاس آیا اور میں نے کھجوروں سے کچھ بھی نہ کاٹا تھا میں اس سے آئندہ سال تک مہلت مانگنے لگا۔لیکن وہ نہ مانتا تھا۔نبی صلی ا ہم کو اس کے متعلق بتلایا گیا۔آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا چلو یہودی سے جابر کے لئے مہلت مانگیں۔وہ میرے پاس میرے کھجور کے باغ میں آئے اور نبی صلی یم یہودی سے گفتگو کرنے لگے۔وہ کہنے لگا ابو القاسم ! میں اس کو مہلت نہیں دوں گا۔جب نبی صلی للی یکم نے یہ دیکھا آپ کھڑے ہو گئے اور باغ میں چکر لگایا۔پھر اس کے پاس آئے اور اس سے گفتگو کی مگر وہ نہ مانا۔میں اٹھا اور جا کر تھوڑی سے تازہ کھجور لایا اور میں نے ان کو نبی صلی المی ریم کے سامنے رکھ دیا۔آپ نے کھائیں۔پھر اس کے بعد پوچھا