حدیقۃ الصالحین — Page 654
654 عفو اور دوسروں کے قصور معاف کرنا 837 - عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَفْضَلُ الْفَضَائِلِ أَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَكَ، وَتُعْطِيَ مَنْ مَنَعَكَ، وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَكَ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكيين ، مسند معاذ بن حسن 15703) سھل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی للی کرم نے فرمایا سب سے بڑی فضلیت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا اسے بھی دے اور جو تجھے برابھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کرے۔838- عن أبي هُرَيْرَةً، عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا عقارجُلٌ عَنْ مَظلَمَةٍ إِلَّا زَادَهُ اللهُ بِهَا عِنا (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند ابى هريرة 7205) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی الیم نے فرمایا کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی اور جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور عزت دیتا ہے اور کسی کے قصور معاف کر دینے سے کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔عن أبي هريرة، عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا عَهَا رَجُلٌ إِلَّا زَادَهُ اللهُ بِهِ عِزًّا، وَلَا نقضت صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلا عَهَا رَجُل قَط ، إِلَّا زَادَهُ اللهُ عزا (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة ، مسند ابى هريرة 9641)