حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 617 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 617

617 786ـ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ صَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِي أَمْرُ تَرَخَصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةٌ (مسلم کتاب الفضائل باب لعلمه الا الله و بالله تعالی و شدتہ خشیتہ 4331) حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یوم نے کوئی کام کیا اور اس میں رخصت پر عمل کیا۔آپ کے صحابہ میں سے بعض لوگوں کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے گویا اسے ناپسند کیا اور اس سے بچنا چاہا۔حضور صلی علیکم کو اس کی اطلاع پہنچی تو آپ خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اُن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہیں میری طرف سے بات پہنچی جس میں میں نے رخصت پر عمل کیا لیکن انہوں نے اسے ناپسند کیا اور اس حکم سے بچنا چاہا۔اللہ کی قسم ! میں اللہ کے بارہ میں ان سے زیادہ علم رکھتا ہوں اور اس کی خشیت بھی ان سے زیادہ رکھتا ہوں۔787ـ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَتْ عِنْدِى امْرَأَةٌ، فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ مَنْ هَذِهِ؟ قُلْتُ فُلَانَةُ، لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهُ، عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ، فَوَاللهِ لَا يَمَلُّ اللهُ حَتَّى تَمَلُّوا ، قَالَتْ وَكَانَ أَحَبَّ الذِينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ ابن ماجه كتاب الزهد باب المداومة على العمل 4238) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی تھی اور نبی صلی الی یکم گھر میں داخل ہوئے اور فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ فلاں (اپنی نماز کا ذکر کرتی ہے ) جو سوتی نہیں۔اس پر نبی صلی الم نے فرما یا بس۔تم پر وہ لازم ہے جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔بخدا اللہ نہیں اکتا تا مگر تم اکتا جاؤ گے۔حضرت عائشہ نے فرمایا: آپ کو سب سے زیادہ پیارا دین وہ تھا جس کو کرنے والا اس پر باقاعدگی اختیار کرے۔