حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 616 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 616

616 اسے کم خیال کیا۔وہ کہنے لگے۔نبی صلی اللیل کم سے ہمیں کیا نسبت؟ اللہ نے انہیں جو بھی ان سے پہلے قصور ہو چکے یا بعد میں ہونے والے تھے سب معاف کر دیئے۔ان میں سے ایک نے کہا میں رات بھر نماز پڑھتارہتا ہوں گا اور دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں گا اور افطار نہیں کروں گا اور تیسرے نے کہا میں عورت سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔رسول صلی اللہ تم آئے آپ نے فرمایا کیا تم وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسا ایسا کہا ہے ؟ سنو اللہ کی قسم! میں تم سے زیادہ اللہ کے حضور عاجزی کرتا ہوں اور تم سے زیادہ اس (کی ناراضگی ) سے ڈر تاہوں مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں۔سو جس نے میرے طریقے کو نا پسند کیا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَهُمْ، أَمَرَهُمْ مِنَ الأَعْمَالِ بِمَا يُطِيقُونَ، قَالُوا: إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَيَغْضَبْ حَتَّى يُعْرَفَ الغَضَبْ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ يَقُولُ إِنَّ أَتْقَاكُمْ وَأَعْلَمُكُمْ بِالله أنا (بخاری کتاب الایمان باب قول النبی الله انا اعلمكم بالله۔۔۔20) حضرت عائشہ بیان فرماتی تھیں کہ رسول اللہ صلی لیم جب کبھی صحابہ کو کسی کام کے کرنے کا حکم دیتے تو آپ صرف انہیں ایسے کاموں کا حکم دیتے جن کو وہ کر سکتے۔صحابہؓ کہتے : یار سول اللہ ! ہم تو آپ جیسے نہیں ہیں۔اللہ تعالی نے آپ کی پہلی اور پچھلی کو تاہیاں معاف کر دی ہیں۔اس بات پر آپ کو اتنا رنج ہوا کہ آپ کے چہرہ سے ظاہر ہونے لگا۔پھر آپ نے فرمایا کہ تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنے والا اور سب سے زیادہ عارف باللہ میں ہوں۔