حدیقۃ الصالحین — Page 618
618 788ـ عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي مُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ، فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِلَةٌ، فَقَالَ لَهَا مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ أَخُوكَ أَبو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَ كُل ؟ قَالَ فَإِنِّي صَائِمٌ، قَالَ مَا أَنَا بِاكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ، قَالَ فَأَكَلَ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ ، قَالَ لَمْ ، فَنَامَ ، ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ فَقَالَ لَمْ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ سَلْمَانُ ثُم الآنَ، فَصَلَّيَا فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، فَأَعْطِ كُلَّ ذِى حَقٍ حَقَهُ، فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ سَلْمَانُ (بخاری کتاب الصوم باب من اقسم على اخيه ليفطر في التطوع۔۔۔۔۔۔1968) عون بن ابی جحیفہ اپنے باپ ( وہب بن عبد اللہ سوائی) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا نبی صلی ا ہم نے حضرت سلمان اور حضرت ابو دردا کو آپس میں بھائی بھائی بنایا۔حضرت سلمان حضرت ابو در دانہ سے ملنے گئے تو انہوں نے حضرت ام در دار کو دیکھا کہ انہوں نے میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔انہوں نے اُن سے پوچھا تمہارا یہ کیا حال ہے؟ وہ کہنے لگیں: تمہارے بھائی ابو دردار کو دنیا میں کوئی حاجت نہیں۔اتنے میں حضرت ابو دردار آئے تو انہوں نے حضرت سلمان کے لئے کھانا تیار کیا اور اُن سے کہا آپ کھائیں (اور) کہا میں تو روزہ دار ہوں۔حضرت سلمان نے کہا میں اس وقت تک ہر گز نہ کھاؤں گا جب تک آپ نہ کھائیں۔(وہب نے ) کہا حضرت ابو دردار نے کھانا کھایا اور جب رات ہوئی تو حضرت ابو درداء کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔(حضرت سلمان نے) کہا سوئیں۔تو وہ سو گئے۔پھر نماز کے لئے اُٹھنے لگے تو انہوں نے کہا ابھی سوئیں۔جب رات کا آخری حصہ ہوا تو حضرت سلمان نے کہا اب اُٹھیں اور دونوں نے نماز پڑھی اور حضرت سلمان نے اُن سے کہا تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے