حدیقۃ الصالحین — Page 454
454 تجارت اور صنعت، خرید و فروخت اور اجارہ کے آداب -567 عَنْ عَبَايَةَ بْن رفاعة بي رافع بي حد ، عَنْ جَدِهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ قِيْلَ يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْكَسْبِ أَطيبُ ؟ قَالَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلِّ بَيْعِ مَبْرُورٍ (مسند احمد بن حنبل ، مسند الشاميين ، حدیث رافع بن خديج 17397) حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ! کون سا ذریعہ معاش بہتر ہے۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا ہاتھ کی محنت ، دستکاری اور صاف ستھری تجارت بہترین ذریعہ معاش ہیں۔568 - عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ أُتِيَ اللهُ بِعَبْدِ مِنْ عِبَادِهِ آتَاهُ اللهُ مَالًا، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا عَمِلْتَ فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ وَلَا يَكْتُمُونَ اللهَ حَدِيثًا ، قَالَ يَا رَبِ آتَيْتَنِي مَالَكَ، فَكُنْتُ أَبَايِعُ النَّاسَ، وَكَانَ مِنْ خُلُقِي الْجَوَازُ، فَكُنْتُ أَتَيَسَّرُ عَلَى الْمُوسِرِ، وَأَنْظُرُ الْمُعْسِرَ، فَقَالَ اللهُ: أَنَا أَحَقُّ بِذَا مِنْكَ، تَجَاوَزُوا عَنْ عَبْدِي ، فَقَالَ عُقْبَةُ بْنْ عَامِرٍ الْجُهَنِيُّ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، هَكَذَا سَمِعْنَاهُ مِنْ في رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مسلم کتاب المساقاة باب فضل انظار المعسر 2906) حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے پاس اس کے بندوں میں سے ایک بندہ جسے اللہ نے مال عطا کیا تھا لایا گیا۔اللہ نے اس سے پوچھا کہ تم نے دنیا میں کیا کیا ؟ راوی کہتے ہیں کہ وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔وہ کہے گا اے میرے رب تو نے مجھے اپنا مال عطاء فرمایا تھا میں لوگوں سے خرید و فروخت کرتا تھا اور میری عادت در گزر کرنے کی تھی۔میں مالدار کو سہولت دیتا تھا اور تنگدست کو مہلت دیتا تھا۔اللہ فرمائے گا کہ میں