حدیقۃ الصالحین — Page 452
452 حکم ہے۔آپ صلی ٹیم نے فرمایا تم نے اپنے کتے کو بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا تھا دوسرے کتوں کو نہیں (اس لئے یسے شکار کو نہ کھاؤ سوائے اس کے کہ اس جانور کو خو د ذبح کیا ہو)۔564 - عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَأَمْسَكَ وَقَتَلَ فَكُلْ، وَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلُ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، وَإِذَا خَالَطَ كِلابًا ، لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهَا، فَأَمْسَكَنَ وَقَتَلْنَ فَلَا تَأْكُلُ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِى أَيْهَا قَتَلَ، وَإِنْ رَمَيْتَ الصَّيْدَ فَوَجَدْتَهُ بَعْدَ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ لَيْسَ بِهِ إِلَّا أَثَرُ سَيْبِكَ فَكُلْ، وَإِن وَقَعَ في الماءِ فَلَا تَأْكُل (بخاری کتاب الذبائح و الصيد باب الصيد اذا غاب عنہ یو مین او ثلاثه (5484) حضرت عدی بن حاتم سے روایت ہے کہ نبی صلی علیم نے مجھے فرمایا کہ جب تم نے بسم اللہ پڑھ کر اپنے کتے کو شکار پر چھوڑا اور اس نے شکار کو تمہارے لئے پکڑے رکھا خواہ وہ مر ہی گیا ہو تو تم اس شکار کو کھا سکتے ہو۔اور اگر کتے نے اس شکار میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو نہ کھاؤ کیونکہ کتے نے اپنے لئے شکار کیا ہے تمہارے لئے نہیں۔اور اگر تمہارے کتنے کے ساتھ دوسرے کتے شامل ہو جائیں جن پر تم نے بسم اللہ نہیں پڑھا اور ان سب نے شکار کو مار کر تمہارے لئے روکے رکھا اور اس میں سے خود کچھ نہیں کھایا تو بھی تم اس شکار کو نہ کھاؤ اس لئے کہ تمہیں نہیں معلوم کہ شکار کو کس کتے نے مارا ہے۔اگر تم نے شکار کو تیر سے مارا ہے اور تم نے اس کو ایک یا دو دن بعد مراہوا پایا اور مرنے کی وجہ تیر کے سوا کوئی اور چیز نہیں تو تم اس شکار کو کھا سکتے ہو۔اور اگر شکار پانی میں مرا ہو املا ہے تو اسے نہ کھاؤ ( اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ پانی میں گرنے کی وجہ سے مراہو تیر کے زخم سے نہیں)۔