حدیقۃ الصالحین — Page 451
451 وَسَلَّمَ نَهَانَا عَنِ الحَرِيرِ وَالدِيبَاجِ، وَالقُرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ، وَقَالَ هُنَّ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَهِيَ لَكُمْ فِي الآخِرَةِ بخاری کتاب الاشربه باب الشرب في آنية الذهب (5632) ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ حذیفہ بن یمان مدائن میں تھے تو انہوں نے پانی مانگا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کا پیالہ لایا۔آپ نے وہ پیالہ اس پر پھینک دیا اور کہنے لگے۔میں نے اسے نہیں پھینکا مگر اس لئے کہ میں نے اس کو روکا ہے اور وہ رکا نہیں اور نبی صلی الم نے ریشمی کپڑوں اور دیباج اور سونے چاندی کے برتن میں پینے سے ہمیں روکا اور فرمایا یہ چیزیں دنیا میں ان کے لئے ہیں اور وہ آخرت میں تمہارے لئے ہوں گی۔ذبیحہ اور شکار 563 - عَنْ عَدِي بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الكَلْبِ المُعَلَّمِ ، قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ المُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ، فَإِنْ أَكَلَ فَلَا تَأْكُلُ، فَإِنَّمَا أَمْسَكَ عَلَى نَفْسِهِ، قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ خَالَطَتْ كلا بنا كلاب أخرى ؟ قَالَ إِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْم الله عَلَى قَلْبِكَ، وَلَمْ تَذْكُرْ عَلَى غَيْرِهِ (ترمذی کتاب الصيد باب ما جاء فى الكلب يأكل من الصيد (1470) حضرت عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سدھائے ہوئے شکاری کتے سے شکار کرنے کے بارہ میں پوچھا۔آپ صلی المی یکم نے فرمایا جب تم نے اپنا کتا بسم اللہ پڑھ کر چھوڑا ہے تو اس شکار کو کھاؤ جو اس نے تمہارے لئے پکڑ رکھا ہے اور اگر اس نے اس میں سے کچھ کھالیا ہے تو اس شکار کو مت کھاؤ کیونکہ کتے نے اپنے لئے شکار کیا ہے۔پھر میں نے پوچھا کہ اگر ہمارے کتوں کے ساتھ دوسرے کتے مل جائیں تو کیا