حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 390 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 390

390 دیکھا ( یعنی وہ بڑے زندہ دل اور خوش مزاج تھے)۔لیکن جب رات ہوتی تو وہ خدا تعالیٰ کے ذکر میں اس طرح محو ہوتے گویا وہ تارک الدنیا ہیں۔464 عن يماك بي حزب، قال قلت يجابر بن سمرة: أكُنتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا، كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (مسلم کتاب الفضائل باب تبسمه و حسن عشرته 4272) سماک بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے کہا کیا آپ رسول اللہ صلی علیکم کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے ؟ انہوں نے کہاہاں، بہت کثرت سے آپ اپنے اس مصلی سے جس پر آپ صبح کی نماز پڑھا کرتے تھے نہ اٹھتے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا۔پھر جب (سورج) طلوع ہو جاتا تو آپ کھڑے ہوتے۔(اور مجلس میں) لوگ باتیں کرتے ، جاہلیت کی باتوں کا تذکرہ کرنے لگ جاتے اور ہنستے اور حضور صلی نی نیم تبسم فرماتے۔عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ نَعَمْ كَثِيرًا ، كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ الصُّبْحَ، أَوِ الْغَدَاةَ، حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ قَامَ ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ (مسلم کتاب المساجد باب فضل الجلوس في مصلاه بعد الصبح 1066) سماک بن حرب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن سمرہ سے پوچھا کیا آپ رسول اللہ صلی علیم کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ہاں بہت دفعہ۔جب آپ اپنی نماز پڑھنے کی جگہ سے نہ اٹھتے