حدیقۃ الصالحین — Page 387
387 شعر و شاعری 458ـ عَنْ صَخْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ إِنَّ مِنَ البَيَانِ سِحْرًا، وَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ جَهْلًا، وَإِنَّ مِنَ الشَّعْرِ حُكْمًا، وَإِنَّ مِنَ الْقَوْلِ عِيَالًا (ابوداؤد کتاب الادب باب ما جاء في الشعر 5012) حضرت بریدہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی للی کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بعض باتیں جادو کی طرح اثر انگیز ہوتی ہیں اور بعض علم مراحل جہالت کا مظہر ہوتے ہیں اور بعض شعر حکمت اور دانائی کے مضامین سے پر ہوتے ہیں اور بعض باتیں کہنے والے کے لئے مصیبت اور وبال کا باعث بن جاتی ہیں۔459- عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّعْرُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ كَلَامُ فَسَنُهُ حَسَنُ ، وَقَبِيحُهُ قَبِيحُ (دار قطنی کتاب المكاتيب ، باب خبر الواحد يوجب العمل 4306 ) حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی نیلم کے پاس شعر کے اچھے یا برے ہونے کا ذکر ہوا تو آپ مصلی می کنم نے فرمایا شعر ایک انداز کلام ہے جو اشعار عمدہ اور پاکیزہ مضامین پر مشتمل ہیں وہ اچھے ہیں اور جو گھٹیا اور محش مطالب کے حامل ہیں وہ برے اور مخرب اخلاق ہیں۔عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّعْرُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ كَلَامُ فَحَسَنُهُ حَسَنُ وَقَبِيحُهُ قَبِيحُ (مشكاة كتاب الادب باب البيان و الشعر ، الفصل الثالث 4807)