حدیقۃ الصالحین — Page 386
386 آداب و امثال 457ـ عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّوَجَلَّ مِنَ الْهُدَى، وَالْعِلْمِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيْبَةٌ، قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الكَلاَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ، فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ، فَشَرِبُوا مِنْهَا وَسَقَوْا وَرَعَوْا، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانُ لَا تُمْسِكُ مَاءً، وَلَا تُنْبِتُ كَلَا، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللهِ، وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثْنِيَ اللَّهُ بِهِ، فَعَلِمَ وَعَلَّمَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعُ بِذَلِكَ رَأْسًا، وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ (مسلم کتاب الفضائل باب بیان مثل ما بعث به النبي له من الهدى 4218) الله حضرت ابو موسی سے روایت ہے کہ نبی صلی الی یکم نے فرمایا اس ہدایت اور علم کی مثال جس کے ساتھ اللہ عز و جل نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس بارش کی طرح ہے جو کسی زمین پر پڑی تو اس زمین کا ایک عمدہ حصہ تھا جس نے اس پانی کو قبول کر لیا اور کثرت سے جڑی بوٹیاں اور سبزہ اُگایا اور اس میں سے بعض سخت حصے تھے جنہوں نے پانی روک رکھا تو اللہ نے اس کے ذریعہ سے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور لوگوں نے اس میں سے پانی پیا اور سیر اب کیا اور جانوروں کو چرایا۔اس کے ایک حصہ کو پانی پہنچا جو چٹیل میدان ہے نہ تو پانی روکتا ہے نہ ہی کوئی سبزہ اُگاتا ہے۔یہ مثال ہے اس کی جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو اس ذریعہ سے فائدہ پہنچایا جس کے ساتھ اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے۔پس اس نے سیکھا اور سکھایا اور اس کی مثال جس نے اس کے ساتھ اپنا سر اُٹھا کر بھی نہ دیکھا اور اُس ہدایت کو جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے قبول نہ کیا۔