حدیقۃ الصالحین — Page 367
367 421 - عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ غَطُوا الْإِناءَ، وَأَوْكُوا السَّقَاءَ، وَأَغْلِقُوا الْبَابَ، وَأَطْفِوْا السّرَاجَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَخْلُ سِقَاءٌ، وَلَا يَفْتَحُ بَابًا، وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنْ لَمْ يَجِدُ أَحَدُكُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَى إِنَائِهِ عُودًا، وَيَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ ، فَلْيَفْعَلْ، فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةٌ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ (مسلم كتاب الاشربة باب الامر بتغطية الاناء و ايكاء السقاء۔۔۔۔۔۔3741) حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا بر تن ڈھانک کر رکھو اور مشکیزے کا منہ باند ھو اور دروازوبند رکھو اور چراغ بجھا دو کیونکہ شیطان مشکیزہ نہیں کھولتا اور نہ دروازہ کھولتا ہے اور نہ ہی بر تن کا ڈھکنا اٹھاتا ہے۔پس اگر تم میں سے کوئی کچھ نہ پائے سوائے اس کے کہ اپنے بر تن پر کوئی لکڑی (ہی) رکھ دے اور اللہ کا نام لے تو ایسا کرے کیونکہ چوہیالوگوں پر ان کے گھر جلا دیتی ہے۔422 - عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَّ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُةٌ نَتَحَدَّثُ فِيهَا، فَقَالَ إِذْ أَبَيْتُمْ إِلَّا المَجْلِسَ، فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَهُ قَالُوا وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ غَضُّ البَصَرِ ، وَكَفَ الأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ ، وَالأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهَى عَنِ المُنْكَرِ (بخاری کتاب الاستئذان باب يا ايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوتا 6229) حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ایم نے فرمایا تم راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم وہاں بیٹھنے پر مجبور ہیں، اس کے بغیر چارہ نہیں، ہم ان جگہوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں اور آپس میں مشورہ کرتے ہیں۔حضور صلی الی یکم نے فرمایا جب تم وہاں بیٹھنے پر مجبور اور مصر ہو تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔صحابہ نے عرض کیا راستے کا حق کیا ہے ؟ آپ میلی لی یکم نے فرمایا نظر نیچی رکھنا، دکھ دینے سے بچنا، سلام کا جواب دینا، نیک بات کی تلقین کرنا اور بری بات سے روکنا۔