حدیقۃ الصالحین — Page 368
368 423 - عن عمرة بن أبي أُسَيْد الأَنْصَارِي، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ خَارِجٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاخْتَلَطَ الرِّجَالُ مَعَ النِّسَاءِ فِي الطَّرِيقِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ: اسْتَأْخِرْنَ، فَإِنَّهُ لَيْسَ لَكُنَّ أَنْ تَحْفُقْنَ الطَّرِيقَ عَلَيْكُنَ بِحَافَاتِ الطَّرِيقِ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تَلْصَقُ بِالْجِدَارِ حَتَّى إِنَّ ثَوْبَهَا لَيَتَعَلَّقُ بالجدار مِنْ لُصُوقها به (ابوداؤد کتاب الادب ، ابواب النوم ، باب فى مشى النساء مع الرجال في الطريق 5272) حضرت ابو اسید انصاری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی للی کم کو مسجد سے باہر جس وقت عورتیں گلی میں مردوں کے ساتھ مل کر بھیڑ کی شکل میں چل رہی تھیں یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خواتین راستہ کے ایک طرف ہو کر یعنی فٹ پاتھ پر چلیں۔یہ مناسب نہیں کہ وہ راستہ کی روک بن جائیں۔ابو اسید بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد عورتیں سڑک کے ایک طرف ہو کر دیوار کے ساتھ ساتھ ہو کر چلا کرتیں۔بعض اوقات تو وہ اس قدر دیوار کے ساتھ لگ کر چلتیں کہ ان کے کپڑے دیوار کے ساتھ اٹک اٹک جاتے۔424- عن جابر، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا إلَّا كَانَ مَا أُكِلَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا سُرِقَ مِنْهُ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ مِنْهُ فَهُوَ لَهُ صدقَةٌ، وَمَا أَكَلَتِ الخَيْرُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ، وَلَا يَرْزَؤُهُ أَحَدٌ إِلَّا كَانَ لَهُ صَدَقَةٌ (مسلم کتاب المساقاة باب فضل الغرس و الزرع 2886) حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یوم نے فرمایا کہ کوئی مسلمان کوئی درخت نہیں لگاتا مگر جو بھی اس میں سے کھایا جائے وہ اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو اس میں سے چوری ہو جائے وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہے۔اور جو درندے اس سے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور جو پرندے کھائیں وہ بھی اس کی طرف سے صدقہ ہوتا ہے اور کوئی بھی اس کو نقصان نہیں پہنچا تا مگر وہ اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے۔