حدیقۃ الصالحین — Page 348
348 تیسری بار شادی کر لے۔گویا طلاق اور رجوع کے اختیار کو محدود کر دیا گیا اور اس طرح جاہلیت کے اس برے رواج کو ختم کر کے ظالم خاوند سے عورت کی آزادی کی راہ آسان کر دی)۔387- عَنِ ابْنِ عَبَّاس أَن جَارِيَّةٌ بِكْرًا أنتِ النَّبي صلّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوْجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ ، فَقَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (ابو داؤد کتاب النکاح باب في البكريزوجها ابوها ولا يستامرها2096) حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی صلی اللہ نیلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بیان کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کر دیا ہے اور وہ نا پسند کرتی ہے۔نبی صلی الی ہم نے اسے اختیار دیا۔388 - عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ۔۔۔۔۔۔۔أَنَّ امْرَأَةٌ تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا، وَلَهَا مِنْهُ وَلَدٌ، فَخَطَبَهَا عَهُ وَلَدِهَا إِلَى أَبِيهَا، فَقَالَتْ: زَوَجْنِيهِ، فَأَبَى وَزَوَجَهَا مِنْ غَيْرِهِ بِغَيْرِ رِضٌى مِنْهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ نَعَمْ، زَوَجْتُهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْ عَمْ وَلَدِهَا ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَزَوَّجَهَا مِنْ عَمْ وَلَدِهَا (مسند ابی حنیفه کتاب النکاح ، باب بیان استئذان البكر والثيب (266) حضرت عبد اللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا اس کا اس سے ایک بچہ بھی تھا۔بچہ کے چچانے عورت کے والد سے اس بیوہ کا رشتہ مانگا۔عورت نے بھی رضا مندی کا اظہار کیا لیکن لڑکی کے والد نے اس کا رشتہ اس کی رضامندی کے بغیر کسی اور جگہ کر دیا۔اس پر وہ لڑکی حضور صلی ای کم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی۔حضور صلی اللہ کریم نے اس کے والد کو بلا کر دریافت کیا۔اس کے والد نے کہا کہ اس کے دیور سے بہتر آدمی کے ساتھ میں نے اس کا رشتہ کیا ہے۔حضور صلی الم نے باپ کے کئے ہوئے رشتہ کو توڑ کر