حدیقۃ الصالحین — Page 347
347 عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ، ثُمَّ أَطَلِقُكِ، وَأَفَعَلُ ذَلِكَ، فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ : الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيح بِإِحْسَانٍ (البقره: 230) (مستدرك على صحيحين للحاكم ، كتاب التفسير باب من سورة البقرة 3106) وو حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ (زمانہ جاہلیت میں) لوگوں میں رواج تھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو جتنی بار چاہتا طلاق دے سکتا تھا کیونکہ طلاق دیکر عدت کے اندر رجوع کر لیتا اور بعض اوقات تو سو (۱۰۰) سو(۱۰۰) بار بلکه اس سے بھی زیادہ دفعہ طلاق دیتا اور پھر رجوع کر لیتا۔ایک شخص نے ایک بار اپنی بیوی سے کہا کہ نہ میں تجھے اس طرح طلاق دوں گا کہ تو مجھ سے آزاد ہو جائے اور نہ تجھے اپنے گھر بساؤں گا۔عورت نے پوچھا، وہ کس طرح؟ اس نے کہا کہ اس طرح کہ تجھے طلاق دوں گا اور جب تمہاری عدت ختم ہونے لگے گی تو رجوع کر لوں گا اور اسی طرح کرتارہوں گا۔اس عورت نے حضرت عائشہ کے پاس اپنے خاوند کی اس زیادتی کا ذکر کیا۔(جب آنحضرت صلی علیکم گھر تشریف لائے) تو حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی العلیم کے پاس اس عورت کی اس مشکل کا ذکر کیا۔آپ صلی الم نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ ” ایسی طلاق (جس میں رجوع ہو سکے ) دو دفعہ (ہو سکتی) ہے ( یاتو ) مناسب طور پر روک لینا ہو گا یا حسن سلوک کے ساتھ رخصت کر دینا ہو گا“۔(یعنی پہلی طلاق کے بعد مرد عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے اگر رجوع یا نکاح کے بعد اس نے پھر طلاق دے دی تو اسے یہی اختیار حاصل ہو گا یعنی عدت کے اندر رجوع کر سکے گا اور عدت گزرنے کے بعد باہمی رضامندی سے نکاح کر سکے گا اگر اس نے اس دوسرے رجوع یا نکاح کے بعد پھر اس نے طلاق دے دی تو پھر نہ وہ رجوع کر سکے گا اور نہ اس عورت سے نکاح کر سکے گا البتہ اگر عدت گزرنے کے بعد وہ عورت کسی اور سے شادی کر لے اور دوسر امر د باہمی نباہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے اسے طلاق دے دے تو پھر اگر پہلا مر دچاہے تو عورت کو رضامند کر کے اس سے