حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 341 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 341

341 وَطَلَبَها لِمَرْضَاتِهِ، وَاتَّبَاعَهَا لِمُوَافَقَتِهِ، يَعْدِلُ كُلَّ مَا ذَكَرْتِ لِلرِّجَالِ۔فَانْصَرَفَتْ أَسْمَاءُ وَهِيَ تُهلل وَتُكَذِرُ اسْتِبْشَارًا بِمَا قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔(الاستيعاب كتاب النساء باب الالف ، اسماء بنت یزید) حضور ایک دفعہ اسماء بنت یزید انصاری نبی صلی للی کم کی خدمت میں عورتوں کی نمائندہ بن کر آئیں اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ صلی نیلم پر فدا ہوں۔میں عورتوں کی طرف سے حضور کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے آپ صلی ای کم کو مر دوں اور عورتوں سب کی طرف مبعوث فرمایا ہے۔ہم عورتیں گھروں میں بند ہو کر رہ گئی ہیں اور مر دوں کو یہ فضیلت اور موقعہ حاصل ہے کہ وہ نماز باجماعت، جمعہ اور دوسرے مواقع اجتماع میں شامل ہوتے ہیں، نماز جنازہ پڑھتے ہیں، حج کے بعد حج کرتے ہیں اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور جب آپ میں سے کوئی حج ، عمرہ یا جہاد کی غرض سے جاتا ہے تو ہم عور تیں آپ کی اولاد اور آپ کے اموال کی حفاظت کرتی ہیں اور سوت کات کر آپ کے کپڑے بنتی ہیں، آپ کے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔کیا مردوں کے ساتھ ہم ثواب میں برابر کی شریک ہو سکتی ہیں ؟ جبکہ مرد اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور ہم اپنی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔حضور صلی الی کم اساء کی یہ باتیں سن کر صحابہ کی طرف مڑے اور انہیں مخاطب کر کے فرمایا کہ اس عورت سے زیادہ عمدگی کے ساتھ کوئی عورت اپنا مسئلہ اور کیس کو پیش کر سکتی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا حضور ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرایہ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے۔پھر آپ صلی یی کم حضرت اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے خاتون ( محترم ) اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو ان کو جا کر بتا دو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔