حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 326 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 326

326 يدي الله ليسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ وَلَا تَرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ، ثُمَّ لَيَقُولَن لَهُ: أَلَمْ أُوتِكَ مَالاً ؟ فَلَيَقُولَن: بلى، ثُمَّ لَيَقُولَن ألم أرسل إليك رَسُولاً ؟ فَليَقُولُنَ: بَلَ، فَيَدْخُرُ عَنْ يَمِينِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ، فَلْيَتَّقِينَ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِ عمرة، فَإِن لَّمْ يَجِدُ فَبِكَلِمَةٍ طيبة بخارى كتاب الزكاة باب الصدقة قبل الرد 1413) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے میں رسول اللہ صل اللی نیم کے پاس تھا۔اتنے میں دو شخص آپ کے پاس آئے۔ان میں سے ایک اپنی محتاجی کا شکوہ کرتا تھا اور دوسر ار ہرنی کا شکوہ کرتا تھا۔رسول اللہ صلی الیم نے فرما یار ہر نی جو ہے تو اس کے متعلق یاد رکھو کہ تھوڑی دیر گزرے گی کہ جب قافلہ بغیر کسی محافظ کے مکہ کو جایا کرے گا اور جو محتاجی ہے تو وہ گھڑی اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم میں سے کوئی اپنے صدقہ کو لئے گھومتا نہ پھرے اور وہ کسی کو نہ پائے جو اس سے صدقہ قبول کرے۔پھر اس کے بعد تم میں سے ایک ضرور اللہ تعالی کے سامنے کھڑا ہو گا۔اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان نہ کوئی پر دہ ہو گا اور نہ کوئی ترجمان جو اس کے لئے ترجمانی کرے۔پھر اللہ تعالیٰ اسے کہے گا کیا میں نے تجھ کو مال نہیں دیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا: کیوں نہیں۔پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا تھا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں۔پھر وہ اپنی دائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا اور پھر بائیں طرف نظر کرے گا تو آگ ہی آگ دیکھے گا۔اس لئے چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک آگ سے بچاؤ کا سامان کرے۔خواہ کھجور کے ایک ٹکڑہ ہی سے ہو۔اگر یہ بھی نہ پائے تو اچھی بات سے ہی۔