حدیقۃ الصالحین — Page 325
325 کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔میں نے کہا کسرای بن ہرمز کے ؟ آپ نے فرمایا کسری بن ہرمز کے، اور اگر زندگی تمہاری لیبی ہوئی تو تم یہ بھی دیکھ لو گے کہ ایک آدمی اپنی مٹھی بھر سونا یا چاندی نکالے گا اور ایسے شخص کو تلاش کر رہا ہو گا جو اس سے وہ قبول کرے اور وہ کسی کو بھی نہ پائے گا جو اُس سے اس کو لے اور تم میں سے ایک اللہ سے اس روز ضرور ملے گا جس روز کہ وہ اس سے ملے گا۔حالت یہ ہو گی کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا جو اس کے لئے ترجمانی کرے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تیرے پاس رسول نہیں بھیجا جو تجھے میرا حکم پہنچائے ؟ تو وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور بھیجا ہے اور وہ فرمائے گا: کیا میں نے تجھے مال نہیں دیا تھا اور تجھ پر فضل نہیں کیا تھا۔وہ کہے گا: کیوں نہیں، ضرور کیا تھا۔پھر وہ اپنی دائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا اور اپنی بائیں طرف دیکھے گا تو جہنم ہی دیکھے گا۔عدی کہتے تھے میں نے نبی صلی الہ ظلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے آگ سے بچو خواہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ، اور جو کھجور کا ایک ٹکڑا نہ پائے تو وہ اچھی بات سے ہی۔عدی کہتے تھے چنانچہ میں نے عورت سوار دیکھی جو حیرہ سے چل کر آئی اور کعبہ کا طواف کرتی۔اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی اور میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے کسرای بن ہرمز کے خزانے فتح کئے اور اگر زندگی تمہاری لمبی ہوئی تو تم بھی ضرور ان باتوں کو پورا ہوتے دیکھ لو گے جو اس نبی ابو القاسم علی سلیم نے فرمائی ہیں، یعنی یہ کہ ایک آدمی مٹھی بھر (سونا چاندی) لے کر نکلے گا ( اور کوئی اس کو قبول نہ کرے گا)۔حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْن خَلِيفَةَ الطَّائِ، قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ رَجُلانِ أَحَدُهُمَا يَشْكُو العَيْلَةَ، وَالآخَرُ يَشْكُو قَطعَ السَّبِيلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا قَطَعُ السَّبِيلِ: فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلَّا قَلِيلٌ، حَتَّى تَخْرُجَ العِيرُ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ، وَأَمَّا العَيْلَةُ: فَإِنَّ السَّاعَةَ لَا تَقُومُ، حَتَّى يَطُوفَ أَحَدُكُمْ بِصَدَقَتِهِ، لَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ، ثُمَّ لَيَقِفَنَ أَحَدُكُمْ بَيْنَ