حدیقۃ الصالحین — Page 215
215 ہاں۔آنحضرت مصلی کلام فرماتے تھے اگر سفر میں ہوں تو تین دن رات اپنے موزے پہنے رکھ سکتے ہیں۔چاہے کوئی پیشاب پاخانہ کرے یا سوئے۔البتہ کوئی شخص جنبی ہو اور اسے نہانا ضروری ہو ، تو پھر موزے اتارنے کا حکم ہے۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ عشق و محبت کے بارہ میں بھی کوئی بات آپ نے سنی ہے ؟ انہوں نے کہاہاں، ہم ایک الله سفر میں نبی صلی علیم کے ساتھ تھے کہ ایک دیہاتی آدمی نے بلند آواز سے آپ صلی کام کو اے محمد ! کہہ کر پکارا۔آپ صلی علی ایم نے بھی اسی لہجہ میں اس کو ہاں میں جواب دیا۔میں نے اسے کہا تیر استیا ناس ہو، تو نبی صلی الی یکم کے حضور میں ادب کا طریق اختیار کر اور آہستہ بول کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دربار میں اونچی آواز نکالنے سے منع فرمایا ہے۔وہ دیہاتی کہنے لگا خدا کی قسم! میں تو آہستہ نہیں بولوں گا۔پھر اس نے کہا، یہ بندہ آپ لوگوں سے محبت کرتا ہے لیکن ان میں شامل نہیں۔( یعنی ان جیسے اعمال اس کے نصیب میں نہیں)۔اس پر نبی صلی الی یکم نے فرمایا قیامت کے دن انسان اسی کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔المدرسة 200- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَوَفَّاَ الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ أو الْمُؤْمِنُ - فَعَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَ مِنْ وَجْهِهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ نَظرَ إِلَيْهَا بِعَيْنَيْهِ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مَعَ آخِرِ قَطْرِ الْمَاءِ - فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَ مِنْ يَدَيْهِ كُلُّ خَطِيئَةٍ كَانَ بَطَشَتْهَا يَدَاهُ مَعَ الْمَاءِ أو مع آخرٍ قَطرٍ الْمَاءِ - فَإِذَا عَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ كُلُّ خَطِيئَةٍ مَشَعْهَا رِجْلَاهُ مَعَ الْمَاءِ - أَوْ مع أخر قطرٍ الْمَاءِ - حَلى تخرج نَقِيا مِنَ الذُّنوب (مسلم کتاب الطهارة باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء 352) حضرت ابوہریر گا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ جب کوئی مسلمان یا مومن بندہ وضوء کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرہ سے ہر وہ خطا پانی کے ساتھ یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہے جو اس نے اپنی آنکھوں سے کی ہوتی ہے اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو وہ ساری خطائیں جو اس نے اپنے ہاتھوں سے کی تھیں پانی کے ساتھ یاپانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتی ہیں اور جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا