حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 214 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 214

214 کیا۔آپ صلی ٹیم نے پاؤں میں موزے پہن رکھے تھے اس لئے میں جو کا کہ آپ صلی نیلم کے موزے اتاروں۔تو آپ صلی ٹیم نے فرمایا رہنے دو میں ان پر مسح کروں گا کیونکہ میں نے انہیں پاؤں دھو کر پیتا تھا۔199- عَنْ زِرِ بْنِ حُبَيْشٍ ، قَالَ أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالِ المَرَادِئَ، أَسْأَلُهُ عَنِ المَسْحِ عَلَى الخَفَيْنِ، فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ يَا زِرُ ؟ فَقُلْتُ ابْتِغَاءَ العِلْمِ ، فَقَالَ إِنَّ المَلَائِكَةَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَهَا لِطَالِبِ العِلْمِ رِضًا بِمَا يَطْلُبُ، فَقُلْتُ إِنَّهُ حَلٌّ فِي صَدْرِي المَسْحُ عَلَى الخُفَّيْنِ بَعْدَ الغَائِطِ والبَوْلِ، وَكُنتَ امْرَأَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبِنتُ أَسْأَلُكَ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، قَالَ نَعَمْ، كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةٌ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِن مِنْ غَائِطٍ وَبَوْلٍ وَنَوْمٍ ، فَقُلْتُ هَلْ سَمِعْتَهُ يَذْكُرُ فِي الْهَوَى شَيْئًا ؟ قَالَ نَعَمْ، كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ لَهُ جُهِوَرِي يَا مُحَمَّدُ، فَأَجَابَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَحْو مِنْ صَوْتِهِ هَاؤُمُ وَقُلْنَا لَهُ وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ مُبِيتَ عَنْ هَذَا، فَقَالَ وَاللهِ لَا أَغْضُضُ۔قَالَ الأَعْرَائى المرءُ يُحِبُّ القَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقُ بِهِمْ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ يَوْمَ القِيَامَةِ و و (ترمذی کتاب الدعوات باب فى فضل التوبة والاستغفار (3535) حضرت زر بن حبیش بیان کرتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال کے پاس موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھنے آیا۔حضرت صفوان نے کہا اے زر! کیسے آئے؟ میں نے کہا علم سیکھنے کے لئے آیا ہوں۔اس پر انہوں نے کہا طالب علم کے آگے فرشتے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور اس کی اس علمی طلب پر بہت خوش ہوتے ہیں۔اس پر میں نے کہا پیشاب پاخانہ کے بعد وضو کرتے ہوئے موزوں پر مسح کرنے کا مسئلہ میرے دل میں کھٹکتا ہے۔آپ نبی صلی الی یوم کے صحابی ہیں۔آپ سے پوچھنے آیا ہوں کہ اس بارہ میں آپ نے نبی صلی علیم سے کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے کہا