حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 192 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 192

192 کر (مؤدب) بیٹھ گیا اور عرض کیا۔اے محمد (صلی للی کم) ایمان کسے کہتے ہیں ؟ آپ صلی یکم نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، یوم آخرت کو مانے اور خیر اور شر کی تقدیر اور اس کے صحیح صحیح اندازے پر یقین رکھے۔167ـ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ مَعْرِفَةٌ بِالْقَلْبِ، وَقَوْلُ بِالنِّسَانِ، وَعَمَلٌ بِالْأَرْكَانِ ابن ماجه افتتاح الكتاب ، باب في الايمان (65) حضرت علی بن ابی طالب نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی یم نے فرمایا ایمان دل کی معرفت اور زبان کے اقرار اور اسلام کے ارکان پر عمل کا نام ہے۔168- عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِيمَانُ بِضْعُ وَسَبْعُونَ - أَوْ بِضْعُ وَسِتُّونَ - شُعْبَةٌ، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ - - الأذى عن الطريق، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ (مسلم کتاب الایمان باب بيان عدد شعب الایمان (43) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے فرمایا ایمان کی ستر سے کچھ اوپر یا فرمایا ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں۔اس کی سب سے افضل شاخ لا الہ الا اللہ کا اقرار کرنا اور سب سے عام راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔