حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 191 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 191

191 پوچھو۔تم مجھ سے جس چیز کے بارہ میں بھی سوال کرو گے میں اسے تمہارے لئے کھول کر بیان کروں گا۔جب لوگوں نے یہ سنا تو وہ خاموش ہو گئے اور ڈر گئے کہ ضرور کوئی بات ہونے والی ہے۔حضرت انس کہتے ہیں میں اپنے دائیں اور بائیں دیکھنے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ہر آدمی اپنے کپڑے میں سر لیٹے ہوئے رورہا ہے۔پھر ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جس سے جھگڑا کیا جاتا تھا اور اسے اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کیا جاتا تھا اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی صلی الی یوم امیر باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیر اباپ حذافہ ہے۔پھر حضرت عمر کھڑے ہوئے اور عرض کیا ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمدصلی المی ٹیم کے رسول ہونے پر۔اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے، فتنوں کے شر سے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا میں نے آج کے دن کی طرح خیر اور شر کبھی نہیں دیکھا۔میرے سامنے جنت اور آگ کا منظر دکھایا گیا۔میں نے ان دونوں کو اس دیوار سے ورے دیکھا۔ایمان اور اس کے ارکان 166- فقال عمر بن الخطابِ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ القِيَابِ شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعَرِ ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَا أَحَدٌ حَتَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَلْزَقَ رُكْبَتَهُ بِرُكُبَتِهِ ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَاليَوْمِ الْآخِرِ، وَالقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِهِ (ترمذی کتاب الایمان باب ما جاء في وصف جبريل للنبي العالم الايمان و الاسلام 2610) حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی یلم کے پاس ایک آدمی آیا جس کے کپڑے بہت سفید تھے اور بالوں کا رنگ بہت سیاہ تھا اس پر سفر کی کوئی علامت دکھائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا تھا۔وہ آیا اور نبی صلی الیکم کے گھٹنے کے ساتھ اپنا گھٹنا ملا