حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 189 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 189

189 162 - عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْعَةَ الأَنْصَارِئَ، وَأَبَا عبيدة بن الجراح، وأبي بن كَعْبٍ هَرَابًا مِنْ فَضِيحُ ، وَهُوَ تَمَرَ فَجَاءَ هُمْ آتِ فَقَالَ إِنَّ الخَمْرَ قَدْ حُرِمَتْ، فَقَالَ أَبُو طَلْعَةَ يَا أَنَسُ، ثُمَّ إِلَى هَذِهِ الجِرَارِ فَاكْسِرُهَا، قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَى مهراس لَنا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى الكَسَرَتُ (بخاری کتاب اخبار الاحاد باب ما جاء في اجازة خبر الواحد الصدوق في الاذان۔۔۔7253) حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ میں ابو طلحہ انصاری ، ابو عبیدہ بن جراح اور ابی بن کعب کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔کسی آنے والے نے بتایا کہ شراب حرام ہو گئی ہے یہ سن کر ابو طلحہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کے مٹکوں کو توڑ ڈالو۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میں اٹھا اور پتھر کی کونڈی کا نچلا حصہ مٹکوں پر دے مارا اور وہ ٹوٹ گئے۔پرو 163- عن أبي هريرةً، عَنِ النَّبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ دَعُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ ، إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِسُؤَالِهِمْ وَاخْتِلافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ ، فَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ، وَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ (بخاری کتاب الاعتصام باب الاقتداء بسنن رسول اللہ 7288) حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی الم نے فرمایا جب تک میں تم کو چھوڑے رکھوں اور تم سے کچھ نہ کہوں تم بھی مجھے چھوڑے رکھو ( یعنی مجھ سے کچھ نہ پوچھو) کیونکہ تم سے پہلے بہت سے لوگ اس وجہ سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے بکثرت سوال کرتے لیکن جب ان کو جواب دیا جاتا تو ان کی خلاف ورزی کرتے اور جواب کے مطابق عمل نہ کرتے۔پس جب خود میں تم کو کسی چیز سے روکوں تو رک جاؤ اور جس کا حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق کرو۔