حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 150 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 150

150 توبہ و استغفار اور اللہ تعالیٰ کے بارہ میں حسن ظن 121- حدقنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو عِبَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ الحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ ، قَالَ إِنَّ المُؤْمِنَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَأَنَّهُ قَاعِدٌ تَحْتَ جَبَلٍ يَخَافُ أَنْ يَقَعَ عَلَيْهِ، وَإِنَّ الفَاجِرَ يَرَى ذُنُوبَهُ كَذُبَابٍ مَرَّ عَلَى أَنْفِهِ فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، قَالَ أَبُو شِهَابٍ بِيَدِهِ فَوْقَ أَنْفِهِ ثُمَّ قَالَ لَلَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ نَزَلَ مَنْزِلًا وَبِهِ مَهْلَكَةٌ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ نَوْمَةٌ، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ رَاحِلَتُهُ، حَتَّى إِذَا اشْتَدَّ عَلَيْهِ الحَرِّ وَالعَطَشُ أَوْ مَا شَاءَ اللهُ ، قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي، فَرَجَعَ فَنَامَ نَوْمَةً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَهُ (بخاری کتاب الدعوات باب التوبة (6308) حارث بن سوید سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں۔میں ان میں سے ایک نبی صلی للی نیم سے اور ایک اپنی طرف سے۔یہ کہا کہ مؤمن اپنے گناہوں کو یوں دیکھتا ہے گویا وہ پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے ڈرتا ہے کہ کہیں وہ اس پر نہ آپڑے اور فاجر اپنے گناہوں کو یوں سمجھتا ہے جیسے مکھی اس کے ناک پر سے گزر گئی اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ابو شہاب نے یہ اشارہ اپنے ہاتھ کو ناک پر گزار کر بتلا یا پھر انہوں نے ( آنحضرت صلی للی کم کی حدیث بیان کی) فرمایا اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ شخص کہ جو ایک مقام پر اترا اور وہاں ہلاکت کے سب سامان موجود ہیں۔اس کے ساتھ اس کی اونٹنی ہے جس پر اس کا کھانا اور پانی بندھا ہوا ہے۔وہ اپنا سر رکھ کر تھوڑا سا سو گیا اور پھر جاگا کیا دیکھا کہ اس کی اونٹنی کہیں چلی گئی ہے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ گرمی اور پیاس نے اسے سخت لاچار کر دیا یا فرمایا اتنی سخت گرمی