حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 149 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 149

149 120- عن أليس بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا قَدْ جُهِدَ حَتَّى صَارَ مِثْلَ الفَرْخِ فَقَالَ لَهُ أَمَا كُنْتَ تَدْعُو ؟ أَمَا كُنْتَ تَسْأَلُ رَبِّكَ العَافِيَةُ ؟ قَالَ كُنْتُ أَقُولُ اللَّهُمَّ مَا كُنْتَ مُعَاقِنِي بِهِ فِي الآخِرَةِ فَعَخِلْهُ لِي فِي الدُّنْيَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَا تُطِيقُهُ أَوْ لَا تَسْتَطِيعُهُ، أَفَلَا كُنْتَ تَقُولُ اللَّهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةٌ، وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةٌ، وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (ترمذی کتاب الدعوات باب ما جاء في عقد التسبيح باليد 3487) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے۔آپ صلی ہی ہم نے دیکھا کہ بیماری کی وجہ سے وہ سوکھ کر چوزے کی طرح ہو گیا ہے۔حضور علیہ السلام نے اس سے پوچھا۔کیا تم دعا نہیں کرتے تھے۔کیا تم خدا تعالیٰ سے عافیت طلب نہیں کرتے تھے۔وہ شخص کہنے لگا۔میں تو یہ دعا کر تا تھا کہ اے خدا تو میرے گناہوں کے بدلے جو سزا آخرت میں دے گا وہ اس دنیا میں ہی دیدے۔نبی صلی ال کلم نے ( تعجب سے) فرمایا سبحان اللہ ! تم نہ تو اس سزا کو برداشت کر سکتے ہو اور نہ اس کی استطاعت رکھتے ہو۔تم نے یہ دعا کیوں نہ مانگی کہ اے ہمارے اللہ ! ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔