حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 151 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 151

151 اور پیاس لگی جتنی اللہ نے چاہی۔کہنے لگا۔میں اپنی جگہ لوٹ جاتا ہوں اور وہ لوٹا اور تھوڑا سا سویا تو پھر اس نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہے کہ اس کی او ملٹی اس کے پاس کھڑی ہے۔حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْعَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمهُ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَلَهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ حِينَ يَتُوبُ إِلَيْهِ، مِنْ أَحَدِكُمْ كَانَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِأَرْضِ فَلَاةٍ، فَانْفَلَتَتْ مِنْهُ وَعَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَأَيسَ مِنْهَا، فَأَتَى شَجَرَةً، فَاضْطَجَعَ فِي ظِلْهَا، قَدْ أَيسَ مِنْ رَاحِلَتِهِ، فَبَيْنَا هُمَا كَذَلِكَ إِذَا هُوَ بِهَا، قَائِمَةً عِنْدَهُ، فَأَخَذَ بِخِطَامِهَا، ثُمَّ قَالَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَحِ اللَّهُمَّ أَنْتَ عَبْدِي وَأَنَا رَبُّكَ، أَخْطَأَ مِنْ شِدَّةِ الْفَرَح (مسلم كتاب التوبة باب فى الحض على التوبة والفرح بها 4918) اسحاق بن عبداللہ ابن ابو طلحہ کہتے ہیں ہمیں حضرت انس بن مالک نے بتایا اور وہ ان کے چچا تھے کہ رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا یقیناً اللہ اپنے بندہ کی تو بہ پر جب وہ اس کے حضور توبہ کرتا ہے تم میں سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو کسی جنگل میں اپنی سواری پر تھا۔پھر وہ اس سے چھوٹ گئی جبکہ اس پر اس کا کھانا اور اس کا پانی تھا۔پھر وہ اپنی سواری سے مایوس ہو کر ایک در محت کے پاس آیا اور اس کے سایہ کے نیچے آکر لیٹ گیا۔اچانک کیا دیکھتا ہے کہ اس کی سواری اس کے پاس کھڑی ہے۔چنانچہ اس نے اس کی نکیل سے پکڑا۔خوشی کی شدت سے کہا اے اللہ ! تو میرا بندہ اور میں تیر ارب ہوں۔خوشی کی شدت کی وجہ سے اس سے غلطی ہو گئی۔122- عَن أبي هريراً، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أنا عند ظن عبدي بي، وَأَنا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُني، والله تلهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ