حدیقۃ الصالحین — Page 148
148 ابن شماسہ المہری کہتے ہیں ہم حضرت عمرو بن العاص کے پاس حاضر ہوئے جبکہ وہ جان کنی کی حالت میں تھے وہ بہت دیر تک روتے رہے اور اپنا چہرہ دیوار کی طرف پھیر لیا۔ان کا بیٹا ان سے کہنے لگا اے ابا ! کیا رسول اللہ صلی الم نے آپ کو یہ خوشخبری نہیں دی اور کیار سول اللہ صلی علیم نے آپ کو وہ خوشخبری نہیں دی۔راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے ( ہماری طرف ) اپنا رخ پھیرا اور کہا سب سے افضل بات ہم اس شہادت کو سمجھتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی الی یوم اللہ کے رسول ہیں۔میں تین ادوار سے گذرا ہوں۔میں نے اپنے تئیں اس طرح دیکھا تھا کہ کوئی رسول اللہ صلی الی یکم کے بغض میں مجھ سے بڑھا ہوا نہیں تھا اور میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ میں آپ پر قابو پاؤں اور آپ کو قتل کر دوں اگر میں اس حال میں مر جاتا تو جہنمی ہو تا۔پھر جب اللہ نے اسلام میرے دل میں ڈال دیا تو میں نبی صلی علیم کے پاس آیا اور کہا اپنا دایاں ہاتھ بڑھائیے کہ میں آپ کی بیعت کروں۔آپ نے اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا تو کہتے ہیں کہ میں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا۔آپ نے فرمایا اے عمرو! تمہیں کیا ہوا؟ وہ کہتے ہیں میں نے کہا میں ایک شرط کرنا چاہتا ہوں۔فرمایا تم کیا شرط کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا یہ کہ مجھے بخش دیا جائے۔فرمایا کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کی تمام عمارت کو گرا دیتا ہے اور ہجرت بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتی ہے اور حج بھی اپنے سے پہلے تمام عمارت کو گرا دیتا ہے۔پھر رسول اللہ صلی علیم سے زیادہ مجھے کوئی محبوب نہ تھا اور نہ میری نظر میں آپ سے زیادہ کوئی صاحب عظمت تھا اور مجھے یہ طاقت نہیں تھی کہ میں آپ کے جلال کی وجہ سے آپ کو آنکھ بھر کر دیکھ سکوں اور اگر مجھ سے آپ کا حلیہ پوچھا جائے تو میں بیان نہ کر سکوں کیونکہ میں نے آپ کو نظر بھر کر دیکھا ہی نہیں تھا۔اگر میں اس حال میں مر جاتا تو امید کرتا ہوں کہ میں جنتی ہو تا۔پھر کچھ امور کے ہم ذمہ وار بنے، میں نہیں جانتا کہ ان میں میرا کیا حال ہے اس لئے جب میں مر جاؤں تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ ہو اور نہ آگ ہو اور جب تم مجھے دفن کر دو تو مجھ پر اچھی طرح مٹی ڈال دینا اور میری قبر کے پاس کھڑے رہنا جتنی دیر میں اونٹ ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ مجھے تمہاری وجہ سے تسکین رہے اور میں دیکھ لوں کہ میں اپنے رب کے قاصدوں سے کیا سوال جواب کر تا ہوں۔