حدیقۃ الصالحین

by Other Authors

Page 111 of 863

حدیقۃ الصالحین — Page 111

111 نگے بدن ہوں اس پر نبی صلی علیم نے بدلہ دینے کے لئے اپنی قمیض کو اوپر اٹھایا۔یہ دیکھ کر اسید بن حضیر آپ صلی ایام سے لپٹ گئے اور جسد مبارک کے بوسے پر بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ یار سول اللہ امیر اتو یہ مقصد تھا۔74 - عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ يَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَتَمَسَّحُونَ بِوَضُوئِهِ فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى هَذَا؟ قَالُوا حِبُّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ۔فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَن يحب الله وَرَسُوله أو يحبه اللهُ وَرَسُولُهُ فَلْيَصْدُقُ حَدِيقَهُ إِذَا حَذَتَ وَلْيُؤذِ أَمَانَكَهُ إِذَا أَو من وَلِيُحْسِنَ جَوَارٌ مَنْ جَاوَرَهُ (مشكاة كتاب الادب باب الشفقة و الرحمة على الخلق ، الفصل الثالث 4990) حضرت عبد الرحمن بی ابی قراد بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی ال یکم ایک روز وضو کر رہے تھے کہ آپ صلی ایلم کے صحابہ وضو والا پانی اپنے ہاتھوں اور چہروں پر ملنے لگے۔یہ دیکھ کر نبی صلی علی کرم نے فرمایا ایسا تم کس سبب سے کر رہے ہو ؟ صحابہ کرام نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول صلی الیکم کی محبت کی وجہ سے۔اس پر نبی صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی لی نام سے واقعی محبت کرتے ہو اور چاہتے ہو کہ اللہ اور اس کا رسول صلی علیہ کی بھی تم سے محبت کرے تو اس کے لئے تمہیں یہ کرنا چاہئے کہ ہمیشہ سچ بولو، جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں کبھی خیانت نہ کرو اور اپنے پڑوسی سے ہمیشہ حسن سلوک کرو۔عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي قُرَادٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ يَوْمًا فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَتَمَشَحُونَ بِوَضُوئِهِ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا حَملُكُمْ عَلَى هَذَا ؟ قَالُوا حُبُّ اللهِ وَرَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُحِبَّ اللهَ وَرَسُولَهُ، أَوْ يُحِبَّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَلْيَصْدُقُ حَدِيقَهُ إِذَا حَدَّثَ، وَلْيُوَذِ أَمَانَتَهُ إِذَا انْتُمِنَ، وَلْيُحْسِنُ جِوَارَ مَنْ جَاوَرَهُ الله و (شعب الایمان ، الخامس عشر من شعب الايمان و هو باب تعظیم النبي الله في اجلاله و توقیره 1533 )