حدیقۃ الصالحین — Page 110
110 73 - عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ بَيْنَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ أَصْبِرْنِي فَقَالَ اصْطَبِرْ قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَى قَمِيضُ، فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ، فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَتِلُ كَشْحَهُ، قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابو داؤد کتاب الادب باب في قبلة الجسد (5224) حضرت اسید بن حضیر انصاری کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک دن لوگوں میں بیٹھے ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے۔آپ کی طبیعت میں مزاح پایا جاتا تھا۔کہ نبی صلی علیکم نے ان کے پہلو میں اپنی چھڑی چھوٹی۔اس پر وہ کہنے لگے میں نے تو بدلہ لینا ہے آپ نے فرمایا اچھا آؤ اور بدلہ لے لو۔اس پر وہ کہنے لگے آپ نے تو قمیض پہنی ہوئی ہے اور میں تو شنگے بدن ہوں اس پر نبی صلی الہ ہم نے بدلہ دینے کے لئے اپنی قمیض کو اوپر اٹھایا۔یہ دیکھ کر حضرت اسید بن حضیر آپ صلی الیہ کمی سے لپٹ گئے اور جسد مبارک کے بوسے پر بوسے لینے لگے اور کہنے لگے کہ یارسول اللہ ! میرا تو یہ مقصد تھا ( میں نے تو یہ برکت حاصل کرنے کے لئے دل میں یہ تدبیر سوچی تھی)۔عَن أُسَيدِ بن حُضَيرٍ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - قَالَ بَيْنَمَا هُوَ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ - وَكَانَ فِيهِ مِزَاحٌ - بَيْنَا يُضْحِكُهُمْ فَطَعَنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَاصِرَتِهِ بِعُودٍ فَقَالَ أَصْبِرْنِي۔قَالَ أَصْطَبِرٍ۔قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ قَمِيصًا وَلَيْسَ عَلَى قَمِيضٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَمِيصِهِ فَاحْتَضَنَهُ وَجَعَلَ يُقَبِلُ كَشْحَهُ قَالَ إِنَّمَا أَرَدْتُ هَذَا يَا رَسُولَ الله۔(مشكاة كتاب الادب باب المصافحة ـة و المعانقة ، الفصل الثاني 4685) حضرت اسید بن حضیر انصاری کے بارہ میں روایت ہے کہ ایک دن لوگوں میں بیٹھے ہنسی مذاق کی باتیں کر رہے تھے۔آپ کی طبیعت میں مزاح پایا جاتا تھا۔کہ نبی صلی علیکم نے ان کے پہلو میں اپنی چھڑی چھوئی۔اس پر وہ کہنے لگے میں نے تو بدلہ لینا ہے آپ نے فرمایا اچھا آو اور بدلہ لے لو۔اس پر وہ کہنے لگے آپ نے تو قمیض پہنی ہوئی ہے اور میں تو