حدیقۃ الصالحین — Page 109
109 سے بھی زیاد عزیز کر دے“۔راوی کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی علیکم حضرت داؤد کا ذکر کرتے تو فرماتے کہ وہ بندوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔71 عن أنس عنِ النّبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلاتٌ مَنْ كُنْ فِيهِ وَجَدَ حَلاوَةَ الإيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبُّ المَوْءَ لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَة أَنْ يَعُودَ فِي الكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ (بخاری کتاب الایمان باب حلاوة الايمان 16) حضرت انس نے نبی صلی اللہ یکم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا تین باتیں جس میں ہوں وہ ایمان کا مزا پالیتا ہے۔یہ کہ اللہ اور اس کا رسول تمام دوسری چیزوں سے بڑھ کر اس کو پیارے ہوں اور یہ کہ جس انسان سے بھی محبت کرے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے محبت کرے اور یہ کہ کفر میں لوٹنا ایسا ہی برا سمجھے جس طرح وہ آگ میں پھینکے جانے کو برا سمجھتا ہے۔72 عن أنيس بنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ مَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرٍ صَلَاةٍ وَلَا صَوْمٍ وَلَا صَدَقَةٍ، وَلَكِنِي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ (بخاری کتاب الادب باب علامت الحب فى الله عز وجل 6171) حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ ایک بدوی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا یارسول اللہ ! قیامت کب ہو گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس کے لئے تیاری کیا کی ہے ؟ بدوی نے جواب دیا میں نے نماز روزہ اور صدقے کے ذریعہ تو قیامت کے لئے کوئی زیادہ تیاری نہیں کی البتہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی الیکم کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا تجھے اس کا ساتھ نصیب ہو گا جس سے تجھے محبت ہے۔