ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 57
۵۷ معاوضہ وصول نہیں ہوا تو عوض کیونکر واجب ہو سکتا ہے۔جیسے بیچ میں جب تک خریدی ہوئی چیز نہ ملے اس وقت تک قیمت لازم نہیں ہوتی۔مزنی کہتے ہیں کہ امام شافعی فرماتے تھے کہ اگر بر دع بنت و اشق والی روایت درست ثابت ہو جائے تو اس روایت کے مقابلہ میں کسی فقیہ کا قول بھی حجت نہیں رہتا۔امام ابن رشد فرماتے ہیں کہ جو کچھ امام شافعی نے فرمایا ہے وہ بالکل درست ہے۔فاسد ہر ہر فاسد ہونے کے دو وجوہات ہیں :- (1) جب حق مہر کے عوض شراب یا خنزیر یا کوئی اور ایسی چیز تجویز کی جائے جس کی ملکیت شرعاً جائز نہیں ہے۔(۳) جب حق مہر میں کوئی ایسی چیز مقرر کی جائے جس کی تعین نہ کی گئی ہو مثلاً حق مہر میں ایک بھینس مقرر کی لیکن بھینس کا کوئی وصف بیان نہ کیا جس سے بھینس یا بھینس کی قیمت کی تعین ہوسکے۔فاسد حق مہر کے متعلق پانچ مسائل بیان کئے گئے ہیں۔اقول۔جب حق پر شراب یا خنزیر ہو یا ایسا پھل ہو جو ابھی کچا ہو یا بھاگنے والا اونٹ ہو تو اس کے متعلق امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ نکاح صحیح ہوگا۔اور خاوند کے ذمہ ہر مثل واجب ہوگا۔امام مالک سے اس بارہ میں دو روایات بیان ہوئی ہیں۔(1) نکاح فاسد اور قابل فسخ ہو گا خواہ تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں یا نہ یہی قول ابو عبید کا ہے۔ے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچے پھل کی فروخت سے منع فرمایا ہے۔کیونکہ اس سے خریدنے والے کو نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے مثلاً آندھی وغیرہ سے گرکر تباہ ہو جائے یا کوئی اور آفت آجائے لیکن جو پھل پکنے کے قریب ہو اس کے متعلق یہ احتمال کم ہوتا ہے۔سے بھاگنے والے اونٹ کے متعلق بھی یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ کسی وقت بھاگ جائے۔اور قبضہ سے نکل جائے اس لئے امام ابو حنیفہ نے اس کو بھی مقبوضہ مال قرار نہیں دیا۔سے یہ مذہب اصول اسلام کے مطابق ہے کیونکہ جب فاسر حصہ خارج کر دیا گیا تو اس کے بعد صحیح حصہ کو قائم رکھتا ہی مناسب اور قرین قیاس ہے۔