ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 58
(۲۳) اگر تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہوں تو عقد صحیح ہوگا۔اور خاوند کے ذمہ ہر مثل واجب ہوگا۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ بعض کے نزدیک نکاح کا حکم بیچ کے حکم کے موافق ہے اور بعض کے نزدیک اس کا حکم ہی کے حکم سے مختلف ہے۔جو لوگ اسے بیج کے موافق قرار دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مہر فاسد سے نکاح بھی فاسد ہو جاتا ہے۔اور جو لوگ اسے بیع کے موافق قرار نہیں دیتے ان کے نزدیک ایسا نکاح ہے۔کیونکہ صحت عقد کے لئے مہر کا ذکر لازمی شرط نہیں ہے۔لہذا عقد صحیح ہوگا اور مہر مثل لازم آئے گا۔ابن رشد کے نزدیک جن لوگوں نے اس مسئلہ میں تعلقات زوجیت کے قیام اور عدم قیام کا فرق کیا ہے۔ان کا مذہب ضعیف ہے۔دوم :- اگر مہر کے ساتھ بیچ بھی شامل ہو تو اس بارہ میں فقہاء کا اختلاف ہے۔اس صورت کو امام مالک ابن قاسم اور ابو نور نے جائز قرار نہیں دیا اور اشہب اور امام ابو حنیفہ نے اسے جائز قرار دیا ہے۔بعض نے اس میں فرق کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ اگر اس چیز کی قیمت کے بعد دینار بچ جائے تو نکاح جائز ہے ورنہ نہیں۔وجہ اختلاف اس اختلاف کا سبب بھی یہ ہے کہ جس نے نکاح کو بیچ کے مشابہ قرار دیا اس کے نزدیک یہ جائز نہیں کیونکہ جس طرح قیمت کے معین نہ ہونے سے بچ ناجائز ہوتی ہے اسی طرح مہر کے معین نہ ہونے سے نکاح نا جائز ہوتا ہے جن لوگوں نے اس کو بیع کے مشابہ قرار نہیں دیا ان کے نزدیک یہ نکاح صحیح ہے لے اس کی مثال یہ ہے کہ بیوی نے اپنے خاوند کو ایک گھوڑا دیا اور خاوند نے بیوی کو ایک ہزار روپیہ دیکر یہ کہا کہ یہ رقم گھوڑے کی قیمت اور تمہارے حق مہریں ادا کر رہا ہوں۔لیکن اس نے گھوڑے کی قیمت اور حق مہر کی الگ الگ تعیین نہیں کی۔سے اس بارہ میں امام ابو حنیفہ کا یہ مذہب کہ اس صورت میں نکاح صحیح ہوگا درست معلوم ہوتا ہے۔