ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 34 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 34

تو وہ اس وقت تک معلق رہے گا جب تک ولی اس کی اجازت نہ دیدے۔جب ولی اس کی تصدیق کر دے گا تو وہ نافذ ہو جائے گا ورنہ فسخ ہو جائے گا۔دوسرے مسئلہ کے متعلق امام مالک کے نزدیک اگر ولی قریب غائب ہو تو اس صورت میں ولایت کے اختیارات بعید ولی کی طرف منتقل ہو جائیں گے لیکن امام شافعی کے نزدیک اس صورت میں ولایت کے اختیارات حاکم وقت کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔اس اختلاف کی بنا یہ ہے کہ کیا اوٹی کی اس قسم کی غیر حاضری کی موت قائمقام ہے یا نہیں۔جن کے نزدیک یہ موت کے قائمقام ہے ان کے نزدیک ولایت کے اختیارات بعید ولی کی طرف منتقل ہو جائیں گے دوسروں کے نزدیک نہیں۔تیسرے مسئلہ کے متعلق بہت سے اختلافات اور تفصیلات قابل ذکر ہیں :- در حقیقت یہ اختلاف ولی کے مکان کے قرب و بعد یا غیر حاضری کے عرصہ اور اس کی جائے رہائش کے علم اور عدم علم پر منحصر ہے۔نیز ان حالات کو بھی مد نظر رکھنا پڑے گا کہ لڑکی کے نکاح کی اشد ضرورت کیوں پیش آئی۔کیا اس لئے کہ اس کو کوئی نفقہ دینے والا نہیں ہے۔یا اس لئے کہ اس کی حفاظت کرنے والا کوئی نہیں ہے یا یہ دونوں وجوہات موجود ہیں۔اس امر پر تو فقہاء کا اتفاق ہے کہ اگر باپ لیے عرصہ سے غائب ہو یا اس کی جائے رہائش کا کچھ علم نہ ہو یا اس کا باپ لمبی قید میں ہو۔مگر لڑکی کے نفقہ اور حفاظت کے سامان موجود ہوں تو ایسی صورت میں اگر لڑکی نکاح کا تقاضا نہ کرے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے اور اگر وہ نکاح کا تقاضا کرے تو اس کے ولی کی لمبی قید یا مجہول المکان ہونے کی صورت میں اس کا نکاح کر دیا جائے۔اگر ولی کا مکان معلوم ہو لیکن بعید ہو تو اس صورت میں امام مالک کا نذری یہ ہے کہ لڑکی کا۔۔۔۔۔نکاح کر دیا جائے لیکن عبدالملک اور ابو وہب کا قول یہ ہے کہ نہ کیا جائے۔اگر مندرجہ بالا تین صورتوں میں لڑکی سے نفقہ اور حفاظت کا