ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 33
٣٣ لیکن امام مالک حضرت ام سلمہ کی اس روایت کی بنا پر بیٹے کو ولایت سے فالح نہیں کرتے۔اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ابْنَهَا أَنْ يَنْكِحَهَا إِيَّاه دادا کے متعلق اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ دادا کو زیادہ قریبی سمجھتے ہیں وہ دادا کو ترجیح دیتے ہیں۔اور جو لوگ بھائی کو زیادہ قریبی سمجھتے ہیں وہ بھائی کو ترجیح دیتے ہیں۔اولیاء کی ترتیب کے بارہ میں تین مسائل زیادہ تر زیر بحث آتے ہیں۔(1) جب بعید ولی قریبی ولی کی موجودگی میں نکاح کر دے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ (۲) جب قریبی ولی غائب ہو تو کیا ولایت کے اختیارات بعید ولی کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں یا حاکم وقت کی طرف ؟ (۳) جب باپ اپنی باکرہ بیٹی کے نکاح کے وقت موجود نہ ہو تو کیا اس صورت میں باپ کی ولایت منتقل ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ مسئلہ اول کے متعلق امام مالک سے تین اقوال منقول ہیں۔اول : جب قریبی ولی کی موجودگی میں بعید و لی نکاح کر دے تو نکاح قابل فسخ ہے۔ووم:۔ایسا نکاح جائز ہے۔سوم :- اس صورتیں بیوی کو اختیار ہوا ہے چاہے تو وہ اس نکاح کو قائم رکے اور چاہے تو فسخ کر دے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی بنا یہ ہے کہ کیا یہ ترتیب شرعی حکم کی بنا پر مقرر کی گئی ہے یا نہیں؟ اور اگر یہ شرعی حکم کی بنا پر ہے تو کیا یہ ولی کے حقوق میں سے ہے یا حقوق اللہ میں سے ہے؟ پس جو لوگ اسے حکم شرعی خیال نہیں کرتے۔ان کے نزدیک قریبی ولی کی موجودگی میں بھی بعید ولی نکاح کر سکتا ہے۔اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ حکم شرعی ہے اور ولی کے حقوق میں سے ہے۔ان کے نزدیک اگر نکاح ولی کی اجازت کے بغیر پڑھا جائے ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت ام سلمہ کے بیٹے کو ارشا د فرمایا کہ وہ اپنی والدہ کا ولی بن کر آپ سے نکاح کرا دے۔(مسند امام احمد و نسائی کتاب النکاح باب انکارح الابن امته)