ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 35
۳۵ انتظام نہ ہو تو اس صورت میں فقہاء کے نزدیک اس کا نکاح کر دیا جائے خواہ وہ اس کا مطالبہ کرے یا نہ کرے۔اگر ولی کسی قریب جگہ پر ہی موجود ہو اور وہ جگہ معلوم ہو تو اس صورت میں فقہار کا اتفاق ہے کہ اس کی آمد تک نکاح نہ کیا جائے۔کیونکہ عام حالات میں ایسی جگہ سے دلی خود آ کر نکاح کر سکتا ہے لیکن اگر حاکم وقت مصلحتا یہ دیکھے کہ وقت تنگ ہے اور اگر لڑکی کا نکاح نہ کیا گیا تو فساد کا اندیشہ ہے تو ایسی صورت میں خود حاکم وقت اپنے حکم سے اس کا نکاح کر سکتا ہے۔اگر ایک عورت اپنے نکاح کا معاملہ دو ولیوں کے ہاتھ میں دیدے اور وہ دونوں ولی اس کا نکاح دو جگہ پر کر دیں تو اس صورت میں یا تو یہ معلوم ہوگا کہ پہلے کسی ولی نے نکاح کیا ہے یا یہ معلوم نہ ہوگا۔اگر یہ معلوم ہو کہ پہلے کس نے نکاح کیا ہے تو اس پر تمام فقہاء کا اجماع ہے کہ اس صورت میں پہلے ولی کا نکاح صحیح ہوگا بشرطیکہ کسی جگہ بھی ازدواجی تعلقات قائم نہ ہوئے ہوں۔لیکن اگر دوسرے نے ازدواجی تعلقات قائم کرلئے ہوں تو اس صورت میں امام شافعی اور ابن عبد الحکم کا مذہب یہ ہے کہ پہلے کا نکاح بحال رہے گا اور امام مالک اور ابن القاسم کا خیال یہ ہے کہ دوسرے ولی کا نکاح بحال رہے گا۔اگر دونوں ولیوں نے ایک ہی وقت میں نکاح کیا ہو تو اس صورت میں سب کا مذہب یہ ہے کہ دونوں کا نکاح فسخ ہو جائے گا۔له شریعت نے نکاح کے تعلقات کو منقطع کرنے کے دو طریق رکھے ہیں (ا) خاوند اپنی بیوی کو طلاق کے ذریعہ سے جدا کرے (۲) بیوی حاکم وقت کے پاس وجو ہات پیش کر کے خاوند سے علیحدگی کا فیصلہ حاصل کرلے پہلی صورت کا نام طلاق ہے اور دوسری صورت کا نام شیخ نکاح ہے میں طرح عورت پر نکاح کرنے کے لئے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ وہ ولی کی رضا مندی حاصل کرے اسی طرح فسخ نکاح کے لئے بھی اس پر یہ لازم ہے کہ وہ اس وقت کے ملکی نظام یا مذہبی نظام کے ماتحت مقرر کردہ حاکم یا قاضی کے سامنے وجوہات پیش کر کے اپنی علیحدگی کا فیصلہ کرائے بصورت چونکہ خارجی حالات سے بہت تم آگاہ ہوتی ہے اس لئے اس کی بہبودی اور بہتری کے لئے شریعیت نے اس پر یہ پابندی عائد کی ہے۔تا ایسا نہ ہو کہ وہ وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی ایسا اقدام کر بیٹھے جو مستقبل میں اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو۔ہو