ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 297
۲۹۷ بشر طیکہ اس سے نہ نیت نہ ہوتی ہو۔فقہاء نے سوگ کا یہ حکم اس لئے دیا ہے کہ یہ سنت نبوی سے ثابت یہ حکم ہے یہ نبوی ہے۔جیسا کہ حضرت ام سلمہ کی روایت ہے کہ : جب ایک عورت آنحضرت صلعم کے پاس آئی اور دریافت کیا کہ میری بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے اور اُس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں۔کیا آنکھوں میں سرمہ لگا ہے ؟ وہ آپ نے فرمایا۔نہیں ؛ چنانچہ اس نے تین مرتبہ دریافت کیا۔آپ نے تین مرتبہ ہی منع فرمایا۔اور فرمایا۔یہ حکم چار ماہ دس دن تک ہے۔" به اختلاف کہ سوگ صرف مسلمان عورت پر واجب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک سوگ ایک عبادت ہے اور عبادت کافر کے لئے واجب نہیں ہے۔بعض کے نزدیک یہ حکم مجلسی اور اخلاقی لحاظ سے دیا گیا ہے تاکہ اس کی طرف مردوں کی توجہ نہ ہو۔ان کے نزدیک اس لحاظ سے کافراور مسلمان عورت دونوں برا بر ہیں۔جنہوں نے عورت کی کشش کو ملحوظ رکھا اور مرد کی کشش کا لحاظ نہیں رکھا اُنکے نزدیک نابالغ عورت پر سوگ واجب نہیں ہے کیونکہ اُس کی طرف مردوں کو نہیں ہوتی۔وہ لوگ جن کے نزدیک سوگ صرف مسلمان عورتوں پر واجب ہے۔اُن کی دلیل یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لا يَجِلَّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَحِدَّ إِلَّا عَلَى زوج۔جن لوگوں نے آزاد اور غلام عورت میں فرق کیا ہے اُن کی دلیل یہ ہے کہ سوگ سے دو باتیں واجب ہوتی ہیں :