ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 296 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 296

KAY خاوند کے مرنے کے بعد سوگ کرنا تمام مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ آزاد مسلمان عورتوں پر اپنے خاوند کی وفات کے بعد عدت کے اندر سوگ کرنا واجب ہے۔لیکن وہ عورتیں جو آزاد مسلمان نہ ہوں اُن کے متعلق اختلاف ہے۔امام مالک کے نزدیک سوگ کرنا۔مسلمان - کتابیہ - بالغ اور نابالغ عورت پر واجب ہے۔لونڈی خواہ ارقم ولد ہو یا نہ ہو۔اس پر اپنے مالک کے مرنے کے بعد سوگ۔واجب نہیں ہے۔امام شافعی کے نزدیک کتابیہ پر سوگ واجب نہیں ہے۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک نابالغ اور لکھتا نیہ پر سوگ واجب نہیں ہے۔ایک گردہ کے نزدیک شادی شدہ لونڈی پر بھی سوگ واجب نہیں ہے۔اور ایک روایت کے مطابق امام ابوحنیفہ کا مذہب بھی یہی ہے۔سوگ کن ایام میں واجب ہے ؟ امام مالک کے نزدیک سوگ صرف عدت وفات کے عرصہ میں واجب ہے۔امام ابو حنیفہ اور ثوری کے نزدیک طلاق بائن پر بھی سوگ واجب ہے۔امام شافعی کے نزدیک طلاق بائن کی صورت میں سوگ مستحسن ہے واجب نہیں۔4 عورت سوگ میں کن امور سے اجتناب کرے ؟ - اس کے متعلق فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ وہ ایسی زینت سے اجتناب کرے۔جس سے مردوں کے دل میں کشش پیدا ہوتی ہو۔مثلاً زیور پہننا۔سرمہ لگانا نگدار بھر کیلے کپڑے پہننا وغیرہ۔ضرورت کے موقعہ پر سرمہ لگانا جائز ہے۔