ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 205
۲۰۵ طرح نکات میں اللہ تعالیٰ نے گواہوں کی گواہی رکھی ہے اور یہ گواہی الفاظ سے ہوتی ہے۔اسی طرح رجوع بھی الفاظ سے ہی کافی ہے۔امام مالک اور امام ابو حنیفہ کے درمیان نیت اور عدم نیت کا جو اختلا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک رجوع مجامعت کو اسی طرح خلال کرتا ہے۔جس طرح ایلاء اور ظہار میں رجوع مجامعت کو حلال کرتا ہے یعنی جس طرح ایلاء اور ظہار سے ربوخ کے لئے نیت کی شرط نہیں ہے اسی طرح طلاق سے رجوع کے لئے نیت ضروری نہیں ہے۔نیز طلاق رجعی میں خاوند کی ملک زائل نہیں ہوتی۔اسی لئے وہ ایک دوسرے کے وارث ہوتے ہیں۔لہذا اس مسئلہ میں بھی نیست رجوع شرط نہیں ہونی چاہئیے۔امام مالک کی دلیل یہ ہے کہ وہ عورت جس کو طلاق رجعی دی گئی ہو اس سے رجوع کے بغیر تعلقات زوجیت قائم کرنا حرام ہے اس لئے اس حرام کو حلال کرنے کے لئے نیت کا ہونا ضروری ہے۔اس بارہ میں اختلاف ہے کہ رجعی طلاق کے بعد خاوند اور بیوی کو عزت کے اندر کس حد تک میل ملاپ رکھنا جائز ہے۔امام مالک کے نزدیک خاوند اس کے ساتھ علیحدگی اختیار نہ کرے اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر داخل نہ ہو۔اس کے بالوں کی طرف نہ دیکھے ہاں دوسرے شخص کی موجودگی میں اس کے ساتھ کھانا کھا سکتا ہے لیکن ابن انتقام کی ایک روایت کے مطابق امام مالک نے بعد میں کھانا کھانے کے متعلق اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کی بیوی عدت کے اندر اس کے لئے آرائش کر سکتی ہے۔خوشیوں گا سکتی ہے اور سرمہ وغیرہ لگا سکتی ہے۔یہی مذمب ثوری ے یہ مذہب فلسفہ طلاق کے عین مطابق ہے کیونکہ یہ امور رجوع کے لئے کشش پیدا کر نیوالے ہیں اور فریقین کے درمیان مصالحت کو روشن کرنے والے ہیں۔