ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 204
گواہوں کے متعلق امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ گواہوں کا ہونا پسندیدہ ہے۔لیکن امام شافعی کے نزدیک طلاق کے لئے گواہوں کا ہونا واجب ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ قیاس ، ایک ظاہر حکم کے معارض ہے قرآن مجید کا ظاہر حکم تو اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔واشهدوا ذَرَى عَدْلٍ مِنْكُمْ له اس حکم سے ثابت ہوتا ہے کہ طلاق کے موقعہ پر دو گواہوں کی گواہی رکھنا واجب ہے۔لیکن قیاس یہ ہے کہ یہ حق بھی ان دیگر حقوق کے مشابہ ہے جن پر انسان بغیر کسی شہادت کے قبضہ کر لیتا ہے۔اور وہ قبضہ شرعاً درست سمجھا جاتا ہے۔لہذا اس حق کو بھی بغیر کسی مشہادت کے تسلیم کر لینا چاہیئے۔یہی وجہ ہے کہ اس ظاہر حکم اور قیاس میں موافقت پیدا کرنے کے لئے بعض فقہار نے یہ فتوی دیا ہے کہ طلاق کے لئے گواہوں کا ہونا واجب نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔یہ اختلاف کہ رجوع کس طرح ہونا چاہیے۔اس کے متعلق بعض یہ کہتے ہیں کہ رجوع الفاظ سے ہی کافی ہے یعنی خاوند صرف زبانی کہدے کہ میں رجوع کرتا ہوں تو ربوع صحیح ہو جائے گا۔یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔لیکن ایک گروہ کا یہ مذہب ہے کہ رجوع کے لئے تعلقات زوجیت قائم کرنا ضروری ہے۔فقہاء کے اس گروہ کے پھر ڈوگر وہ ہیں۔ایک گروہ کا مذہب یہ ہے کہ تعلقات زوجیت قائم کرتے وقت نیست رجوع بھی شامل ہونی چاہئیے۔یہ امام مالک کا مذہب ہے۔امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ مطلق تعلقات زوجیت قائم کرنے سے ہی ابھی صحیح ہو جاتا ہے نیت رجوع ضروری نہیں ہے امام شافعی نے عدت میں اچھا کو نکاح میں گواہوں کی گواہی پر قیاس کیا ہے یعنی جس ملہ ترجمہ :۔اور اپنے میں سے دو منصف گواہ مقریہ کرو۔(طلاق رخ )