ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 206 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 206

۲۰۶ ابویوسف اور اوزاعی کا ہے۔ان سب فقہاء کے نزدیک اس کے پاس داخل ہونے سے پیشتر اس کو اطلاع ں داخل ہونے دینا ضروری ہے۔وہ شخص جو اپنی بیوی کو رجعی طلاق دے اور وہ گھر سے باہر ہو پھر گھر سے باہر ہی رجوع کی نیت کرلے اور اپنی بیوی کو اس کی اطلاع بھیجوا دے۔لیکن اسکی بیوی کو طلاق کی اطلاع تو پہنچ جائے مگر رجوع کی اطلاع نہ پہنچے اور اسکی بیوی عدت گزار کرد و سرا نکاح کرلے۔پھر پہلا خاوند بھی وہاں پہنچ جائے تو اس کے متعلق امام مالک کا مذہب موطاء میں یہ منقول ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس نے اس کے ساتھ طلاق کے بعد نکاح کر لیا ہے خواہ اس نے تعلقات زوجیت قائم گئے ہوں یا نہ کئے ہوں۔یہی مذہب اوزاعی اور لیٹ گیا ہے۔لیکن ابن القاسم کی ایک روایت کے مطابق امام مالک نے بعد میں اپنے اس قول سے رجوع کر لیا تھا۔اور یہ کہ دیا تھا کہ پہلا خاوند اس کا زیادہ حقدار ہے۔سوائے اس کے کہ دوسرے خاوند نے تعلقات زوجیت قائم کرلئے ہوں۔امام مالک کے مدنی اصحاب کا یہ دھونی ہے کہ امام مالک نے اپنی موت کے قیمت تک اپنے قول سے رجوع نہیں کیا تھا کیونکہ موطاء ان پر پڑھی جاتی رہی اور انہوں نے اس مسئلہ میں کسی تبدیلی کا اظہار نہیں فرمایا۔یہی حضرت عمر کا قول ہے جو امام مالک نے اپنی کتاب موطاء میں نقل کیا ہے۔امام شافعی فقہار کو فہ اور امام ابو حنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ اس کا پہلا خاوند میں نے طلاق سے رجوع کیا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہے خواہ دوسرے خاوند نے اس سے مجامعت کی ہو یا نہ کی ہو۔اسی مذہب کو داؤد ظاہری اور ابو ثور نے اختیار کیا۔اور حضرت علی کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے