ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 201 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 201

M نہ ہوگی لیکن اگر کسی خاص عورت کے متعلق شرط ہو تو اس سے نکاح کے بعد طلاق واقع ہو جائے گی۔یہ کا نام مالک اور اس کے اصحاب کے مذہب ہے۔وجہ اختلاف اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ بعض کے نزدیک طلاق کے لئے طلاق سے پیشتر اس کی بلک یعنی زوجیت میں ہونا ضروری ہے۔لیکن بعض کے نزدیک طلاق کے لئے طلاق سے پیشتر ملک زوجیت میں ہونا ضروری نہیں ہے۔بلکہ طلاق کے بعد بھی اگر وہ ملک نے وجبت میں آجائے گی تو یہ طلاق اس پر اثر انداز ہو گی۔جن کے نزدیک طلاق سے پیشتر ملک زوجیت میں ہونا ضروری ہے ان کے نزدیک اجنبی عورت پر کسی صورت میں بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔جن کے نزدیک طلاق کے لئے مطلق مالک زوجیت کا موجود ہونا ہی کافی ہے۔خواہ یہ ملک حال میں ہو یا مستقبل میں ان کے نزدیک اجنبی عورت کو زوجیت کی شرط کے ساتھ طلاق واقع ہو جاتی ہے۔1 اس بارہ میں عمومیت اور خصوصیت میں فرق کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مصلحت کا تقاضا ہے۔کیونکہ عمومیت کی صورت میں وہ اپنے لئے تمام دنیا کی عورتوں کو حرام کر رہا ہے اور وہ اپنے لئے نکاح کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر رہا ہے۔اس لئے یہ جائز نہیں ہے۔لیکن اگر وہ ایک خاص شہر یا ایک خاص طبقہ کی عورتوں کی تخصیص کرے تو اس صورت میں چونکہ یہ دقت پیش نہیں آتی اس لئے یہ جائز ہے۔امام شافعی نے عمرو بن شعیب کی روایت سے استدلال کیا ہے اور وہ یہ ہے۔قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا طَلَاقَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ نِكَا ا ترجمہ :۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طلاق صرف نکاح کے بعد ہی صحیح ہوتی دترندی باب لاطلاق قبل النكاح ) ہے۔