ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 200
تیسرا باب وہ عورتیں جن پر طلاق واقع ہوتی ہے اور جن پر واقع نہیں ہوتی اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ وہ عورتیں جو عصمت نکاح کے اندر ہیں یا طلاق رجعی کی عدت کے اندر ہیں ان پر طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن اجنبی عورتوں پر طلاق واقع نہیں ہوتی۔اجنبی عورتوں کو نکاح کی شرط کے ساتھ طلاق دینے کی صورت میں علماء میں اختلاف ہے کہ ایسی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں ؟ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں اجنبی عورت سے میں نکاح کروں تو اسے طلاق کیا نکاح کے بعد اس عورت کو طلاق ہوگی یا نہیں ؟ اس بارہ میں علماء کے تین گروہ ہیں۔اول :- اجنبی عورت پر نکاح کی شرط کے ساتھ طلاق واقع نہیں ہوتی خواہ اس کا قول عام ہو یا خاص یعنی خواہ اس کا قول یہ ہو کہ جس عور سے میں شادی کروں اسے طلاق یا کسی خاص عورت کے متعلق ہو کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کروں یا فلاں قبیلہ یا فلاں شہر کی عورت سے نکاح کروں تو اسے طلاق۔یہ مذہب امام شافعی - احمد اور داؤد کا ہے۔دوم : اجنبی عورتوں پر نکاح کی شرط سے طلاق واقع ہو جاتی ہے۔خواہ طلاق کا قول عام ہو یا خاص۔یہ امام ابو حنیفہ کا مذہب ہے۔سوم : اگر طلاق میں تمام عورتوں کی عمومیت ہو تو نکاح کے بعد طلاق واقع