ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 178 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 178

14A بلکہ طلاق وارد ہو جائے گی سوائے اس کے کہ اس کے متعلق کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے یہ معلوم ہو کہ اس نے طلاق کی نیت نہ کی تھی۔اسی طرح اگر اپنی بیوی کو جس سے تعلقات زوجیت قائم ہو چکے ہیں۔واضح کتابہ سے طلاق دے اس کے بعد یہ ہے کہ میری نیت تین طلاق سے کم کی تھی تو اس کا یہ قول نہ مانا جائے گا۔لیکن اگر وہ ایسی بیوی ہو جس سے ابھی تعلقات زوجیت قائم نہ ہوئے ہوں اور اسے واضح کتابہ سے طلاق دی ہو تو اس صورت میں اس کا یہ قول مان لیا جائے گا کہ اس نے تین سے کم طلاقوں کی میت کی تھی۔کیونکہ ایسی بیوی نہیں سے مجامعت نہ ہوئی ہو۔اس کو ایک طلاق دینے سے بھی طلاق بائن ہوتی ہے۔مثلاً وہ اس کے لئے یہ الفاظ استعمال کرے حَبْلُكِ عَلَى غَارِ بِكَ یعنی تو آزاد ہے جہاں چاہے جاسکتی ہے انتِ بَتَةٌ " یعنی تمہیں جُدا کرنے والی طلاق ہے۔" انتِ خَلِيَّةُ " اور " KING TONGUE ) ان تینوں فقروں کا مطلب یہی ہے کہ تو مجھے سے طلاق کے ذریعہ آزاد ہے اور جہاں چاہے جاسکتی ہے۔یہ الفاظ طلاق کے لئے واضح کنانہ ہیں۔اس لئے اگر یہ الفاظ ایسی بیوی کے متعلق استعمال کرے جس کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم نہ ہوئے ہوں اور طلاق دینے کے بعد وہ یہ کہے کہ میری نیت تین سے کم طلاقوں کی تھی تو اس کی بات مان لی جائے گی۔امام شافعی کے نزدیک واضح کنایہ میں طلاق دینے والے کی نیت کے مطابق عملدرآمد ہوگا۔اگر اس کا ارادہ ایک طلاق کا ہو گا تو ایک طلاق ہوگی۔اور اگر اس سے زیادہ کا ہو گا تو اس کے مطابق زیادہ طلاقیں ہونگی۔امام ابو حنیفہ کا مذہب بھی یہی ہے صرف فرق یہ ہے کہ اگر اس کی نیت ایک ے ترجمہ: تمہاری رہتی تمہارے کندھے پر ہے۔کے ترجمہ تو مجھ سے جدا ہے اور تمہیں کوئی روک نہیں ہے۔کے ترجمہ :۔تو مجھے سے آزاد ہے اور تمام ذمہ داریوں سے بری ہے۔