ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 179 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 179

149 یا دو طلاق کی ہوگی تو اسے طلاق بائن پڑے گی۔اسی طرح اگر طلاق کا قرینہ موجود ہو اور وہ یہ دعوی کرے کہ اس نے طلاق نہیں دی تو اس کی بات قبول نہ کی جائے گی۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک تمام واضح کنایات میں جب طلاق کا قرینہ موجود ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے سوائے چار الفاظ کے۔اور وہ یہ ہے۔(۱) عَبْلُكِ عَلَى غَارِبِكِ (٣) اِعْتَدِی (۳) اسْتَبْدِي (م) تَقَني کیونکہ امام صاحب کے نزدیک یہ الفاظ صریح کنایہ نہیں ہیں بلکہ ان میں دیگر احتمالات بھی موجود ہیں۔اس لئے ان میں اس کی نیت کو ملحوظ رکھا جائے گا۔اگر طلاق کے لئے غیر واضح کنا یہ استعمال کیا جائے تو امام مالک کے نزدیک اس کے متعلق طلاق دینے والے کی نیت کے مطابق عمل کیا جائے گا۔لیکن جمہور کا مذاہب یہ ہے کہ اس قسم کا کتابیہ کالعدم ہے۔اور اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی خواہ اس کی نیت طلاق دینے کی ہی ہو۔واضح کنایہ کے متعلق مندرجہ بالا بحث سے یہ نتیجہ نکلا کہ اس بارہ میں فقہار کے تین اقوال ہیں:۔اول : اس قسم کی طلاق کے بعد اگر خاوند یہ کہے کہ پینے صرف ایک طلاق دی تھی یا میری نیت طلاق کی نہ تھی تو اس کی تصدیق کی جائے گی۔یہ امام شافعی کا قول ہے۔دوم :- اس کی تصدیق نہ کی جائے گی۔سوائے اس کے کہ کوئی ایسا قرینہ موجود ہو جس سے اس کی صداقت نظاہر ہوتی ہو۔تو اس صورت میں اس کے قول کی تصدیق کی جائے گی۔یہ امام مالک کا مذہب ہے۔سوم: اس کی تصدیق کی جائے گی سوائے اس کے کہ اس نے طلاق کے دوران میں اکنایہ استعمال کیا ہو۔تو اس صورت میں اس کی یہ بات نہ مانی جائے گی ے تو عدت گزار سے تو مجھے سے ایک حیض گزار کر فارغ ہے۔سے تو سر پر اور بھی لے یعنی تو مجھ سے پرده کست