ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 162 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 162

۱۶۲ وہ لوگ جو اسے طلاق قرار نہیں دیتے وہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں طلاق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا الطلائی مرند۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قدید کا ذکر فرمایا۔اس کے بعد پھر طلاق کا ذکر فرمایا۔یعنی : فإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَة انس گروہ کے نزدیک اگر ضلع بھی طلاق کے حکم میں ہے تو اس طرح چار طلاقیں بن جاتی ہیں اور حَتَّى تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَ والی طلاق۔چوتھی طلاق بنتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ طلاقوں کے ذکر کے درمیان ضلع کا ذکر ہے اور ضلع کا حکم طلاق کے حکم سے بالکل جدا ہے۔فقہاء کا یہ خیال درست نہیں ہے۔کیونکہ ضلع کی دو صورتیں ہیں۔اول میاں بیوی آپس میں کسی معاوضہ پر رضامند ہو جائیں یعنی خاوند بیوی سے کچھ معاوضیہ نے کر اسے اپنے عقد سے آزاد کردے یہ بھی ضلع ہے اور اس پر ضلع کے تمام احکام نافذ ہوتے ہیں یعنی خاوند اس صورت میں رجوع نہیں کر سکتا۔اور عورت ایک فیض عدت گزار کر دوسری جبکہ شادی کر سکتی ہے۔دوم۔اگر خاوند یا ہم رضامندی سے کچھ معاوضہ لے کر بیوی کو آزاد کرنے پر رضامند نہ ہو اور بیوی کو اس سے کسی وجہ سے سخت نفرت ہو اور وہ اس کے عقد میں رہنا گوارا نہ کرتی ہو تو اس صورت میں اس کی بیوی۔قاضی یا حاکم وقت کے پاس درخواست قلع کر سکتی ہے قاضی حالات کا جائزہ لے کر خاوند کا دیا ہوا حق مہر وغیرہ واپس دلا کر درخواست ضلع منظور کر سکتا ہے۔ان پرو و صورتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ضلع کی صورت میں خاوند کو انکار کا کوئی اختیار نہیں ہے۔کیونکہ اگر وہ باہم رضامندی سے جدا کرنے پر رضامند نہ ہو تو بیوی حاکم وقت یا قاضی کے ذریعہ سے علیحدگی کا فیصلہ حاصل کر سکتی ہے۔اور اس فیصلہ کے بعد خاوند کو انکار کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ہذا بعض فقہار کا یہ کہنا کہ ضلع میں چونکہ خاوند کو معاوضہ کی پیشکش رو کرنے یا قبول کرنے کا اختیار ہوتا ہے اس لئے یہ طلاق ہے فسخ نکاح نہیں ہے درست نہیں ہے۔مندرجہ بالا دونوں صورتوں میں اس کی بیوی اس سے ہائن ہو جائے گی اور اسے رجوع کا کوئی حق حاصل نہ ہو گا۔در حقیقت محفوظ اور درست رائے ہی ہے۔اور اس مذہب کو اختیار کرتے ہوئے دیگر تمام جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔