ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 163 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 163

۱۶۳ اس طرح ان کے نزدیک فسخ نکاح فریقین کی رضا مندی سے ہوتا ہے جس طرح فیح پیچ فریقین کی رضامندی سے ہوتی ہے۔لہذ اطلاق اور فسخ نکاح کا حکم مساوی نہ ہونا چاہیئے۔دوسرا گروہ جو ضلع کو طلاق قرار دیتا ہے۔ان کا یہ جواب دیتا ہے کہ آیت مذکورہ میں طلاقوں کی تعداد نہیں بنائی گئی بلکہ طلاقوں کی اقسام بیان کی گئی ہیں۔کیونکہ ایک طلاق ایسی بھی ہوتی ہے جو معاوضہ ادا کر کے حاصل کی جاتی ہے۔اس لئے اس کا ذکر بھی دوسری طلاقوں کے ضمن میں کر دیا گیا ہے۔وجہ اختلاف | اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس بارہ میں اختلافت ہے کہ کیا بدل کی ادائیگی سے طلاق کے اختیارات باطل ہو جاتے ہیں یا قائم رہتے ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بدل کی ادائیگی سے طلاق کے اختیارات باطل ہو جاتے ہیں ان کے نزدیک خاوند کو رجوع کا حق حاصل نہیں ہے۔اور عورت طلاق کی عدت کی بجائے ضلع کی عدت گزارے گی یعنی ایک حیض۔جن لوگوں کے نزدیک بدل کی ادائیگی کے بعد بھی طلاق کا حکم قائم رہتا ہے۔ان کے نزدیک خاوند کو رجوع کا اختیار حاصل رہے گا اور بیوی طلاق کی عدت تین حیض گزارے گی۔ضلع کے احکام ضلع کے احکام متعدد ہیں لیکن ان میں سے مشہور احکام درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔اول ضلع کے بعد طلاق دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ امام مالک کے نزدیک ضلع کے بعد طلاقی نہیں پڑتی۔سوائے اس کے کہ طلاق کے متعلق کلام متصل ہو۔یعنی خاوند یہ کہے کہ اس قدر بدلہ کے عوض تمہار ا خلع منظور ہے اور پھر تمہیں ایک طلاق ہے۔امام شافعی کے نزدیک خواہ کلام متصل ہو یا منفصل خلع کے بعد طلاق کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔اس لئے طلاق نہیں پڑتی۔امام ابو حنیفہ کے نزدیک کلام خواہ متصل ہو یا منفصل ضلع کے بعد طلاق پڑھائی