ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد

by Other Authors

Page 161 of 341

ھدایۃ المقتصد بامحاورہ اُردو ترجمہ بدایۃ المجتھد — Page 161

141 امام شافعی کی ایک روایت یہ ہے کہ یہ کتا یہ ہے اگر خاوند کا مقصد طلاق کا ہوگا تو طلاق واقع ہوگی۔اور اگر اس کی نیت فسخ نکاح کی ہوگی تو فسخ ہو گا لیکن امام شافعی کا آخری قول یہ ہے کہ یہ طلاق ہے۔جمہور فقہاء جو اسے طلاق قرار دیتے ہیں وہ اسے طلاق بائن قرار دیتے ہیں۔یعنی عدت کے عرصہ کے اندر خاوند رجوع نہیں کر سکتا کیونکہ اگر عدت کے اندر نهاوند یہ جوع کر سکتا ہو تو عورت کو بدل ضلع ادا کرنے کا کیا فائدہ۔این ثور کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس کے لئے طلاق کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو وہ طلاق کی عدت گزارے گی اور اسے رجوع کا اختیار حاصل ہوگا۔اور اگر فسخ نکاح کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو وہ ایک ماہ عدت گزارے گی اور اسے رجوع کا حق ہیں نہ ہوگا۔وہ لوگ جو اسے طلاق قرار دیتے ہیں وہ اس کی یہ دلیل دیتے ہیں کہ فتح نکاح کا مطلب یہ ہے کہ میاں بیوی کے درمیان رسی جدائی واقع ہو جائے جس میں خاوند کو کسی قسم کا اختیار باقی نہ ہو لیکن ضلع کی وجہ علیحدگی میں خاوند کو اس وجہ سے قدر اختیار ہوتا ہے کہ وہ یہاں ضلع لے کر علیحدگی پر رضا مند ہو یا نہ ہو اس لئے یہ فسخ نکاح نہیں بلکہ طلاق ہے۔سے کنایہ سے مراد یہ ہے کہ خاوند صریح الفاظ میں طلاق نہیں دے رہا۔بلکہ ایسے الفاظ میں دے رہا ہے جن سے طلاق کا مفہوم بھی نکل سکتا ہے اور طلاق کے علاوہ اور کوئی مفہوم بھی نکل سکتا ہے۔اس لئے اس کے متعلق خاوند کی نیت کو دیکھا جائے کہ وہ کیا چاہتا ہے اگر اسکی نیت طلاق کی ہوگی تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر اسکی نیست فسخ نکاح کی ہوئی تو منع ہوگا۔کے در حقیقت فقہاء کا یہ اختلاف کو خلع طلاق ہے یا فسخ نکاح اور اس میں خاوند کو اختیار ہے یا نہیں۔یہ اختلاف صرف اس وجہ سے ہے کہ اکثر فقہاء کا ہر سب یہ ہے کہ خلع کے لئے حاکم وقت یا قاضی کے پاس جانا ضروری نہیں ہے بلکہ صرف میاں بیوی آپس میں اس طرح فیصلہ کر لیں کہ بیوی کی پال دیگر خاوند سے علیحدگی حاصل کر لے۔مثلاً بیوی یہ کہے کہ اس قدر بال لیکر مجھے ضلع دے دو اور خاوند اس کو ظور کرلے۔اس صورت میں بعض اسے طلاق قرار دیتے ہیں۔بعض طلاق بالحوض اور بعض نسخ نکاح - ان کے نزدیک چونکہ یہ خاوند ہی اپنی طرف سے علیحد گی منظور کر رہا ہے اس لئے یہ طلاقی ہی ہے لیکن ان (بقیہ حاشیہ د پر)